وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال اربعین (چہلم امام حسین)کے موقع پر پاکستانی زائرین کو صرف فضائی راستے سے عراق جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ بلوچستان کے راستے ایران اور عراق جانے پر پابندی برقرار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ طویل مشاورت کے بعد عوام کے تحفظ اور قومی سلامتی کے مفاد میں کیا گیا ہے، اور وزیراعظم کو بھی نئی پالیسی پر بریفنگ دی گئی ہے۔ پاکستان سے ہر سال لاکھوں زائرین ایران اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں۔ صرف اربعین کے موقع پر چار سے پانچ لاکھ پاکستانی عراق پہنچتے ہیں جبکہ سال بھر میں یہ تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ صدیوں سے لوگ زمینی راستے سے سفر کرتے آئے ہیں کیونکہ یہ راستہ نہ صرف روایتی ہے بلکہ مالی طور پر بھی عام افراد کے لیے قابل برداشت ہے۔ فضائی سفر کی موجودہ لاگت کے مطابق کراچی، لاہور یا اسلام آباد سے نجف یا بغداد کے لیے ہوائی جہاز کا کرایہ ڈھائی سے تین لاکھ روپے ہے جبکہ زمینی راستے سے یہی سفر تقریبا ستر سے اسی ہزار روپے میں مکمل ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کے سرحدی علاقوں جیسے چمن یا تفتان سے تعلق رکھنے والے زائرین کے لیے فضائی سفر مزید مہنگا ہو جائے گا کیونکہ انہیں پہلے کوئٹہ اور پھر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس زمینی راستہ ان کے لیے ہمیشہ سے سب سے آسان اور سستا ذریعہ رہا ہے۔ لہذا اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر وہ عام اور کم آمدنی والے زائرین ہوئے ہیں جو برسوں کی جمع پونجی سے زیارت کا خواب پورا کرنے نکلتے ہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حالیہ برسوں میں بلوچستان کے راستے زائرین کی گاڑیوں اور بسوں پر دہشت گرد حملوں کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ مکران اور قلات ڈویژن میں زائرین کے قافلوں پر فائرنگ اور بم دھماکوں نے درجنوں قیمتی جانیں لی ہیں۔ ان سانحات نے حکام کو مجبور کیا کہ وہ فوری طور پر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے یہ مشکل فیصلہ کریں تاہم زمینی راستے کی مکمل بندش محض ایک وقتی حل ہے، مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے۔زمینی راستہ محض مذہبی عقیدت کا ذریعہ نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت اور سماجی سرگرمیوں کی جان ہے۔ صدیوں سے لوگ انہی راستوں سے ایران اور عراق کا سفر کرتے آئے ہیں۔ یہ راستے بلوچستان کے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، مقامی کاروبار اور سرحدی تجارت کا اہم ذریعہ ہیں۔ پابندی سے نہ صرف زائرین بلکہ مقامی مزدور، ہوٹل مالکان، ڈرائیورز اور چھوٹے دکاندار بھی متاثر ہو ں گے۔یہ پابندی بلوچستان میں ریاستی رٹ کے بارے میں بھی سوالات اور شکوک شہبات کو بھی جنم دے گی۔ اور یہ تاثر مضبوط ہو گا کہ ایک پرامن مذہبی قافلہ بھی دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ نہیں تو یہ دہشت گردوں کے ایجنڈے کی کامیابی کے مترادف ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس کا منفی تاثر پڑسکتا ہے، خاص طور پر سرمایہ کاروں اور سی پیک میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کے لیے۔ بلوچستان میں سی پیک کی کامیابی کا انحصار شاہراہوں اور گوادر بندرگاہ کی سکیورٹی پر ہے۔ اگر یہ پیغام دنیا کو جائے کہ عام شہریوں کی نقل و حرکت بھی محفوظ نہیں تو سرمایہ کار اربوں ڈالر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے کیسے مطمئن ہوں گے؟ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمینی راستوں کی مکمل بندش کے بجائے سکیورٹی اقدامات کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ شاہراہوں پر سیٹلائٹ نگرانی، جدید کیمروں کی تنصیب، ڈرون پیٹرولنگ، اور خصوصی سکیورٹی اسکواڈز کا قیام بروقت خطرات کا پتہ لگا سکتا ہے۔ بلوچستان کے حساس مقامات پر چھوٹے لیکن تیز رفتار ری ایکشن فورسز تعینات کی جا سکتی ہیں تاکہ کسی بھی حملے کا فوری جواب دیا جا سکے۔مزید برآں، بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا ریاست پر اعتماد بڑھے۔ جب تک مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات اور روزگار کے مواقع نہیں ملتے، دہشت گرد گروہوں کے لیے سپورٹ ختم نہیں ہو گی۔ مقامی قبائل اور کمیونٹیز کو امن قائم کرنے کی کوششوں میں شامل کرنا نہایت اہم ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اربعین کے موقع پر عارضی فضائی پابندی برقرار رکھتے ہوئے فوری طور پر ایک جامع سکیورٹی منصوبہ تیار کرے۔ ایران اور عراق جانے والے زائرین کو سستا، محفوظ اور باعزت زمینی سفر فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی میکانزم قائم کر کے سرحدی راستوں پر بہتر نگرانی کر سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔زمینی راستوں کی بحالی صرف زائرین کے لیے سہولت نہیں بلکہ یہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام ہوگا کہ ریاست اپنی سرحدوں اور شاہراہوں کو محفوظ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اقدام بلوچستان اور گوادر میں سرمایہ کاری، سی پیک کے منصوبوں، اور پورے خطے کی معاشی ترقی کے لیے نیا اعتماد فراہم کرے گا۔مناسب یہی ہے کہ حکومت وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر ایک طویل المدتی حکمت عملی اپنائے۔ پاک ایران شاہراہ سمیت تمام سی پیک سے منسلک راستوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ سرویلینس، اور ہر چند کلومیٹر پر پیٹرولنگ اسکواڈز تعینات کیے جائیں۔ اس طرح نہ صرف دہشت گردی کا بروقت قلع قمع کیا جا سکے گا بلکہ زائرین کے لیے زمینی سفر دوبارہ کھولا جا سکے گا۔ بلوچستان کی محفوظ شاہراہیں نہ صرف صوبے اور پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی اور امن کی ضمانت بن سکتی ہیں۔
٭٭٭
















