”پاکستان پر مزدور اور کسان راج چاہئے”

0
183
رمضان رانا
رمضان رانا

بلاشبہ پاکستان کی اکثریتی آبادی مزدوروں، محنت کشوں اور کسانوں پر مشتمل ہے جو اب سرمایہ داروں ،جاگیرداروں، وڈیروں، اجارہ داروں اور رسہ گیروں کے غلام بن چکے ہیں جن کو ایک طرف مزدور کو ٹھیکیداری نظام کے حوالے کردیا گیاہے۔ دوسری طرف کسان ،جاگیرداروں اور وڈیروں کے فرید غلام بن چکے ہیں جبکہ ماضی میں مزدوروں اور کسانوں کے نام پر روس، چین اور دوسرے ترقی پسند ملکوں میں انقلابات آئے جس سے صدیوں کا غلام مزدور اور کسان آزاد ہوا تھا جس کے نقش قدم پر چل کر مشرقی پاکستان کے مزدور اور کسان رہنما مولانا بھاشانی نے بنگال کے کسانوں کی آزادی دلوائی تھی جب یہ انقلاب پاکستان میں برپا ہونے لگا تو پہلے جاگیرداروں نے پاکستان کے مزدوروں اور کسانوں کی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر بیوقوف بنایا پھر ملک توڑ دیا گیا تاکہ مغربی پاکستان کے اندر جاگیرداری نظام قائم رہے۔ مولانا بھاشانی کے بعد بھارتی وزیراعظم جواھرلال نہرو نے بھارت میں جاگیرداری نظام ختم کرکے ملک کے کروڑوں کسانوں کو انگریزوں کے پیدا کردہ جاگیرداروں سے نجات دلوائی تھی مزید برآں دنیا بھر میں مزدوروں اور کسانوں کے انقلابات سے مغربی دنیا میں مزدوروں اور کسانوں کے حقوق بحال ہوئے کہ آج ملوں فیکٹریوں اور دفتروں میں کام کرنے والے مزدوروں محنت کشوں اور کسانوں کے حقوق محفوظ ہیں جس کی خلاف ورزی پر عدالتیں حرکت میں آجاتی ہیں تاہم پاکستان کے غریب مفلس بے بس بے کس اور لاچار عوام کے پاس آج وقت ہے کہ وہ سرمایہ داروں جاگیرداروں، اجارہ اداروں اور ان کے گماشتوں کی بجائے حقیقی ترقی پسند پارٹیوں کا ساتھ دیں جو پاکستان کے پسماندہ عوام کو عہد غلامی سے آزادی دلا سکیں۔ اگر بھارت میں کانگریس کمیونسٹ پارٹیاں یا موجودہ عام عوام پارٹی عوام کی نجات دہندہ ثابت ہوسکتی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان کی تمام موجودہ سیاسی سرمایہ داروں جاگیرداروں اور جنرلوں کی گماشتہ ہیں جو عوام کو بیوقوف تو بنا سکتی ہیں مگر عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتی یہی وجوہات ہیں کے پاکستان میں نام نہاد قوم پرستی تحریکوں کی قتل وغارت گری سے عوام کی ترقی پسند تحریک کو دبا دیا گیا ہے۔ جو اپنے مسائل کی بجائے نسل پرستی اور لسانی پرستی شکار ہوچکے ہیں۔ تاکہ غریبوں، مفلسوں اور لاچاروں کو متحد نہ ہونے دیا جائے۔ جو نیویارک کی طرح ممدانی کی طرح تبدیلی لا پائے۔ بہرحال پاکستان کے بے بس اور بے کس عوام کو آج زوھران ممدانی جیسا انقلابی چاہئے جس نے آج دنیا کے سب سے بڑے تجارتی اور کاروباری شہر نیویارک30ارب اور کھرب پیتوں کا آما جگاہ ہے جن کو ایک عام شہری مڈل کلاس نے چیلنج کر رکھا ہے جس کے اثرات پورے امریکہ میں پھیل رہا رہے ہیں۔ جو کل کلاں دنیا کی واحد طاقت کے اندر عوامی انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے عوام کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ اجتماعی فیصلہ کریں کہ وہ سیاسی معاشی اور مالی غلامی چاہتے ہیں یا آزادی اگر آزادی چاہیے تو آئندہ کسی ترقی پسند پارٹی کو منتخب کریں جو ملک کے جاگیرداروں اور وڈیروں سے لڑ پائے جس سے صدیوں کا غلام کسان اور ہاری آزاد ہو پائے اسی طرح مزدور جو اپنے حقوق سے محروم ہے اسے بھی مزدور یونین اور تنظیمیں دوبارہ بنانا ہونگی تاکہ مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی جنگ لڑی جائے جس کے لئے لازم ہے کہ وہ موجودہ تمام پارٹیوں کی بجائے اپنی عوام دوست پارٹی کا ساتھ دیں جو موجودہ گماشتہ سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خلاف پرچم بلند کر پائے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here