کیا بلوچستان بنے گا بنگال یا افغانستان !!!

0
219
رمضان رانا
رمضان رانا

بلاشبہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں جاری ہیں کہ یہاں عام عوام کی بجائے سرداروں کی حکومتوں کا دور دورہ چلا آرہا ہے۔ جو مختلف زمانوں اور وقتوں میں بلوچستان پر قابض رہتے ہیں۔ جن کی سہولت کاری پر بلوچستان پر پانچواں فوجی آپریشن گزشتہ دو دہائیوں سے جاری و ساری ہے جس سے عام عوام متاثر ہو رہے ہیں جس کے ردعمل میں بعض بلوچ کے باغی لوگ بھارت کی شہ پر ریاست مخالف اعمال میں مصروف ہیں جس سے بلوچستان بھی اپنا نیا بنگال بننا چا رہا ہے۔ جس سے عوام بلوچ عوام کو کوئی سیاسی، معاشی اور سماجی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو جنگ وجدل کی بجائے اجتماعی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس طرح مرکزی پنجاب اور کراچی وغیرہ نے استحصال طبقوں سے آزادی حاصل کرلی ہے اگر وہ چاہیں تو اپنے حقیقی نمائندگان بھی اقتدار میں لاسکتے ہیں چونکہ ملک میں جنرلوں، جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں، میروں اور چودھریوں کا قبضہ چلا آرہا ہے جو آپس میں متحد ہیں۔ جن کے سیاسی اور مالی مفادات ایک ہیں اس لئے انہوں نے آپس میں معاہدہ کیا ہوا ہے کہ عوام پر کس طرح حکمرانی کی جائے جس کے لئے لازم ہے کہ پورے ملک کے عوام کا اتحاد چاہیے جو سمجھ پائیں کہ مزدور، محنت کش اور کسان کا ایک بھی مسئلہ روٹی ہے چاہے وہ بلوچ، پٹھان، سندھی اور پنجابی ہو سب کے سب روٹی کے محتاج ہیں اس لیے یہ سمجھنا لازم ہے کہ الگ الگ استحصال طبقات کے خلاف لڑ کر آزادی لینا مشکل ہوتا۔ اگر کس آزادی مل بھی جائے تو دوسرا استحصال طبقہ قبضہ کر لے گا۔ جس طرح بنگال میں ہوا کہ آخری دنوں میں عوامی لیگ اور مکئی بامعنی ایک اور ہوکر بنگالی عوام کے دشمن بن گئے جس میں ہر سطح پر تعصبانہ نظام نافذ ہوگیا جس سے آزادی بن گئی بربادی کا نعرہ بلند ہوا جبکہ بنگال کے الگ ہونے سے مغربی پاکستان کے عوام بھیڑیوں کے حوالے کردیئے گئے تھے۔ جو مجیب اور بھاشانی قیادت سے محروم ہوگئے تھے۔ جو آج تک مقبوضہ اور مغلوبہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر بنگال پاکستان سے الگ نہ ہوتا تو شاید مغربی پاکستان کے عوام کی یہ حالت نہ ہوتی جن پر بنگال کے بعد بیس سال تک جنرلوں کی برائے راست حکومت قائم رہی باقی وقتوں میں سازشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے موقع پر بلوچستان کی اہم اور بہت بڑی قیادت غوث بخش بزنجو یاد آتے ہیں جنہوں نے آغاز میں بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کی مخالفت کی تھی۔ بعدازاں فیڈریشن سے علیحدہ ہونے کی مخالف تھے جو سمجھتے تھے کہ بلوچستان بھی الگ ہو کر کسی دوسری طاقت کا غلام بن جائے گا جس طرح ریاستیں آج بڑی طاقتوں کی غلام بنی ہوئی ہیں تاہم بلوچستان کے عوام کے تمام درپیش مسائل کے حل کے لئے کسی متحد اور منظم تحریک کی ضرورت ہے۔ جو جنرلوں اور سرداروں سے پاک حکومت بنا پائے جس طرح ایک دفعہ ڈاکٹر مالک کی شکل میں حکومت قائم ہوئی تھی جو بلوچ عوام کے مسائل کو حل کر پائے۔جس میں بلوچستان کے وسائل صرف اور صرف بلوچ عوام پر خرچ کیے جائیں بلوچستان میں بلوچ عوام کو ہر مقام پر ترجیح دی جائے چاہے وہ کاروبار ٹھیکیداری، یا ملازمتوں کا سلسلہ ہو۔ جس میں سی پیک اور دوسرے پروجیکٹس شامل ہوں بہرحال بلوچستان بنے گا بنگال یا پھر ایک افغانستان یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف اور صرف بلوچ عوام دے سکتے ہیں کہ وہ آزادی کے بعد بنگالی عوام کی طرح بھارت کا حصہ بن جائیں گے۔ یا پھر افغانستان کی طرح طالبانوں جیسے قبائلی نظام کے مزید غلام بن جائیں گے۔ کہ آج افغانستان دنیا سے مٹ چکا ہے یہاں ہر قسم کا ادارہ ناپید ہوچکا ہے جس کے باشندے آج بھی قدیم صدی کے باشندے بن چکے ہیں۔ جو کسی قوم یا عوام کے لیے کسی سانحہ سے کم نہیں ہے کہ یہاں عورتوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہیں جو پڑھنے لکھنے سے محروم ہوچکی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here