وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ چین!!!

0
126

وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25 ویں سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے چین کے شہر تیانجن پہنچے ہیں۔ یہ دورہ محض ایک روایتی سرکاری ملاقات نہیں بلکہ موجودہ عالمی اور علاقائی منظرنامے میں پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے نئے اتحادوں اور معاشی بلاکس کی تشکیل کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان کا کردار اور حکمت عملی اس کے مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ چین برسوں سے پاکستان کا سب سے قریبی سٹریٹیجک اتحادی رہا ہے۔ سی پیک جیسے عظیم منصوبے نے دونوں ملکوں کے رشتے کو محض سفارت کاری سے آگے بڑھا کر معاشی اور سماجی سطح پر گہرا کر دیا ہے۔ اب جبکہ سی پیک کا پہلا مرحلہ بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے، دونوں ممالک سی پیک 2 کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس میں صنعتی ترقی، زراعت، توانائی اور جدید رابطوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ شہباز شریف کا یہ دورہ اسی تناظر میں نہایت اہم ہے کہ پاکستان ان مواقع کو کس طرح بروئے کار لاتا ہے اور خطے میں اپنی پوزیشن کو کیسے مستحکم کرتا ہے۔بین الاقوامی حالات اس وقت پیچیدہ اور غیر یقینی ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے توانائی اور خوراک کے عالمی بحران کو جنم دیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی و سٹریٹیجک کشیدگی نے دنیا کو دو حصوں میں بانٹنے کا تاثر پیدا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معیشت اور خارجہ پالیسی میں توازن قائم کرے۔ شہباز شریف کا یہ دورہ اسی توازن کا حصہ ہے، جہاں ایک طرف پاکستان چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے مغرب اور مشرق کے بیچ ایک پل کا کردار بھی ادا کرنا ہوگا۔ ایس سی او پلیٹ فارم بذاتِ خود پاکستان کے لیے ایک موقع ہے۔ اس تنظیم میں چین، روس، وسطی ایشیائی ریاستیں، بھارت اور ایران شامل ہیں۔ یہ دنیا کی آبادی اور وسائل کا ایک بڑا حصہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ پاکستان اس پلیٹ فارم کو استعمال کر کے نہ صرف خطے کے ممالک سے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنی معیشت کو نئی منڈیوں سے بھی جوڑ سکتا ہے۔ توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے مواقع یہاں سے براہِ راست حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے کا جو عندیہ دیا ہے، وہ نہ صرف سفارتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس کے معاشی نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ یہ دورہ پاکستان کے اندرونی حالات کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ملکی معیشت اس وقت مشکلات کا شکار ہے، زرِمبادلہ کے ذخائر دباو میں ہیں، مہنگائی اور بیروزگاری نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں چین جیسا ملک، جو پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، ہمارے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔تیانجن یونیورسٹی میں وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو جدید تعلیم اور تحقیق سے فیض یاب ہونے کی تاکید کی۔ اس وقت دو سو سے زائد پاکستانی طلبہ اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو مستقبل میں پاکستان کے سائنسی، صنعتی اور تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا۔ چین نے اپنی ترقی میں تعلیم اور تحقیق کو مرکزی حیثیت دی اور آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی واحد راستہ ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کو جدید علم اور ہنر سے آراستہ کرے۔علاقائی سطح پر یہ دورہ پاکستان کے تعلقات کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ افغانستان کی صورتحال، ایران پر پابندیاں اور بھارت کے ساتھ کشیدگی ایسے مسائل ہیں جو پاکستان کے لیے براہِ راست چیلنج ہیں۔ چین کے ساتھ گہری شراکت داری پاکستان کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط سفارتی سہارا فراہم کر سکتی ہے۔ خاص طور پر افغانستان میں استحکام اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راہداریوں کے قیام کے لیے چین اور پاکستان کا کردار ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو اپنے اندرونی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہوگا۔ بیوروکریسی کی سست روی، توانائی کے شعبے کی بدانتظامی، ٹیکس نیٹ کی کمزوری اور سیاسی عدم استحکام وہ رکاوٹیں ہیں جو ہر بڑے منصوبے کے راستے میں آتی ہیں۔ اگر سی پیک 2 کو کامیاب بنانا ہے تو ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ چین سرمایہ کاری کر سکتا ہے، سہولت فراہم کر سکتا ہے، مگر مقامی سطح پر اصلاحات پاکستان ہی کو کرنا ہوں گی۔اس دورے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ خطے میں امن، روابط اور ترقی کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے ہماری ساکھ کو پہلے ہی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر پاکستان ایس سی او پلیٹ فارم پر اپنے مثبت کردار کو اجاگر کرے تو یہ نہ صرف سرمایہ کاری کے لیے سازگار فضا پیدا کرے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی۔مختصر یہ کہ شہباز شریف کا یہ دورہ سفارتی اور معاشی دونوں حوالوں سے فیصلہ کن ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ چین کے ساتھ تعلقات کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی منصوبوں میں بدلنا ہوگا۔ سی پیک پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی معیشت کو درست راہ پر ڈالے، صنعتی اور زرعی ترقی کو آگے بڑھائے اور خطے میں ایک فعال کردار ادا کرے۔ اگر پاکستان نے دانش مندی اور مستقل مزاجی سے قدم بڑھایا تو یہ دورہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here