یوم فضائیہ : تجدید عہد کادن!!!

0
147

7 ستمبر کو یومِ شہدائے فضائیہ ملک بھر میں جس انداز سے منایا گیا، اس نے نہ صرف پوری قوم کو ایک بار پھر قربانی اور حب الوطنی کے جذبات سے روشناس کرایا بلکہ ہمیں یہ پیغام بھی دیا کہ پاک فضائیہ نہ صرف ماضی میں قوم کی امید رہی ہے بلکہ آج بھی مادرِ وطن کی فضاوں کی مضبوط پہرہ دار ہے۔ اس موقع پر ایئر فورس کے تمام اڈوں پر عقیدت و احترام کے ساتھ تقریبات کا انعقاد ہوا، جن میں شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سندھو کی جانب سے دیا گیا یہ دو ٹوک پیغام کہ پاک فضائیہ مادرِ وطن کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر لمحہ پرعزم ہے، درحقیقت دشمنانِ وطن کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اس سرزمین کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ یومِ شہدائے فضائیہ صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ ہماری عسکری اور قومی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جہاں قربانی، بہادری، عزم، اور یقین جیسے الفاظ معانی سے بھر جاتے ہیں۔ 1965 کی جنگ ہو یا 1971 کا معرکہ، پاک فضائیہ نے ہر مرحلے پر ایسی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا جس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ کے اندر پانچ بھارتی طیارے گرا کر ہوابازی کی تاریخ بدل دی۔ یہی جذبہ، یہی مہارت، اور یہی قربانی آج بھی پاک فضائیہ کے ہر سپاہی کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔اس سال یومِ شہدا کا آغاز خصوصی دعاوں اور قرآن خوانی سے ہوا۔ یہ دعائیں ان تمام جانبازوں کے نام تھیں جنہوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک وطنِ عزیز کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان میں وہ سپوت بھی شامل تھے جنہوں نے بری، بحری اور فضائی محاذوں پر دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کو فخر جانا اور شہادت کا رتبہ پایا۔وطن کی خاطر جان قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے افواج پاکستان کے ساتھ پوری قوم نے شہدا کی قبروں پر پھول چڑھائے گئے، ان کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور نئی نسل کو قربانی کا مفہوم یاد دلایا گیا۔ شہدا کا خون ایک ایسا سرمایہ ہے جو قوم کو بیدار رکھتا ہے، اور نسل در نسل وطن سے وفاداری کا سبق سکھاتا ہے۔ پاک فضائیہ کی تاریخ ایسی ہی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ 7 ستمبر 1965 کو بھارت کی جانب سے حملے کے بعد، جب لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر دشمن کا دباو بڑھ رہا تھا، تب پاک فضائیہ نے نہ صرف فضاوں میں برتری حاصل کی بلکہ دشمن کے فضائی حملے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ فضائی جنگ میں برتری کا مطلب زمینی محاذوں پر بھی حوصلہ افزائی اور کامیابی ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس دن کو ہمیشہ کے لیے “یومِ شہدائے فضائیہ” کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔آج جب دشمن ایک بار پھر جدید ہتھیاروں، جارحیت پسند پالیسیوں اور خطے میں بالادستی کے خواب دیکھ رہاتھا، تو پاک فضائیہ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ وطن کی فضائوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، یہ دن درحقیقت ایک قومی قوتِ ارادی کا مظہر ہے۔ رافیل طیاروں کی چمک ہو یا سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی پروپیگنڈا مہم، بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان کی فضائیہ صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ جذبے، ایمان، اور پیشہ ورانہ قابلیت پر یقین رکھتی ہے۔جس کا زندہ ثبوت بھارت کی جانب سے مسلط کی جانے والی حالیہ جنگ ہے جس میںمحض چند گھنٹوںمیںبھارتی حملے کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی طیارے مارے گرائے، جب کہ ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا تھا، بھارتی فوج نے ایل اوسی کے چورا کمپلیکس پر سفید جھنڈ الہرا کر شکست تسلیم کرلی تھی۔چند سال قبل جب بھارت نے پلوامہ حملے کا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملے کی کوشش کی، تب بھی پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں دشمن کے جنگی طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر کے دنیا کو بتایا کہ اگر کوئی ہماری فضاوں میں مداخلت کرے گا تو اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ آج کے یومِ شہدا پر ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ ماضی کی طرح حال اور مستقبل میں بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سندھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور ہتھیاروں سے لیس ہے بلکہ اس کے جوان ایک نظریاتی سپاہی بھی ہیں، جن کے لیے شہادت ایک عظیم مقام ہے۔ ایئر فورس کے اڈوں پر ہونے والی تقریبات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کی غماز ہے کہ نئی نسل اپنے شہدا کو یاد رکھتی ہے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے تیار ہے۔اس موقع پر حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ شہدا کے خاندانوں کو عزت، سہولت، اور فخر کا وہ مقام دے جس کے وہ مستحق ہیں۔ ان خاندانوں کی قربانیوں کا اعتراف محض الفاظ میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں نظر آنا چاہیے۔ یومِ شہدائے فضائیہ دراصل ایک موقع ہے قوم کے لیے بھی اور قیادت کے لیے بھی کہ وہ عہد کرے کہ وطن کی سلامتی، خودمختاری اور وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ دشمن کے ہر وار کو نہ صرف روکا جائے گا بلکہ اسے سبق سکھایا جائے گا۔اور یہ کہ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو، کیونکہ افواج پاکستان نہ صرف ہماری جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ نظریاتی سرحدوں کی بھی پہلی فصیل ہیں۔شہدا کی قربانیوں کو سلام اور فضاوں کے ان پہریداروں کو سلیوٹ جنہوں نے ماضی میں بھی دشمن کے خواب چکناچور کیے، اور آج بھی پوری تیاری کے ساتھ بیدار کھڑے ہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here