پاکستان کی سلامتی سب سے مقدم!!!

0
125

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان کے اندر موجود بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے ہیں۔ ان کارروائیوں میں بھاری تعداد میں دشمن ہلاک ہوئے ہیں، جو پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور عدم استحکام کے ذمہ دار ہیں۔آئی ایس پی آر نے 23 جوانوں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے ۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت واضح طور پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اگر خطے میں امن قائم رکھنا ہے تو اب فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں یہ دو ٹوک اعلان کیا کہ پاکستان ہر اس مقام کو نشانہ بنائے گا جہاں سے اس کی سرزمین اور فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی یا کارروائی ہوتی ہے۔حالیہ واقعات کے تناظر میں افغان وزیر خارجہ کا بھارت کا دورہ ایک علامتی واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ دورہ پاکستان کے لیے ایک سیاسی اور تزویراتی اشارہ ہے کہ بھارت، جو پہلے ہی بلوچستان، کے پی اور دیگر سرحدی علاقوں میں بدامنی کے پیچھے دکھائی دیتا ہے، اب افغان عبوری حکومت کے ساتھ براہِ راست گٹھ جوڑ کے ذریعے پاکستان کے خلاف اپنی حکمتِ عملی کو وسعت دے رہا ہے۔یہ گٹھ جوڑ واضح کرتا ہے کہ کس طرح دشمنی کے پرانے خطوط پر ایک نیا حربہ آزمایا جا رہا ہے اور یہ حملہ اس پیغام کا حصہ ہے جو پاکستان کے دشمن دینا چاہتے ہیں۔ لہذا ہمیں اس صورتِ حال کو اسی تناظر میں دیکھتے ہوئے اپنی یکجہتی اور دفاعی عزم کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ، خاص طور پر تحریکِ طالبان پاکستان، نہ صرف پناہ گاہیں حاصل کیے ہوئے ہیں بلکہ ان کے حملوں کی تربیت، منصوبہ بندی اور مالی اعانت بھی وہیں سے ہو رہی ہے۔ افغانستان کے مختلف صوبوں میں ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی نہ صرف پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ خود افغان ریاست کے اندرونی استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ طالبان حکومت جو کبھی خود بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی علامت تھی، اب غیر ریاستی عناصر کے دباو میں آ کر ایک ایسے بحران کا حصہ بنتی جا رہی ہے ۔ قطر اور سعودی عرب نے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان دونوں ممالک نے پاکستان اور افغانستان سے تحمل، سفارت کاری اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ موقف بظاہر متوازن اور صائب ہے، لیکن مسئلہ صرف سفارتی نہیں، سلامتی کا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو اپنے شہروں، دیہاتوں اور سکولوں میں جگہ دی، انہیں روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کیے اور سوویت یونین کے خلاف ان کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مگر تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ انہی افغان حکومتوں نے ہر نازک موقع پر پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ کبھی بھارت کے ساتھ تجارتی اور عسکری روابط بڑھا کر اور کبھی پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر کابل نے ہمیشہ اسلام آباد کو ایک غیر محفوظ ہمسایہ سمجھنے کی غلطی کی۔پاکستان کا بنیادی مسئلہ اب یہ نہیں کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کیسے بہتر بنائے جائیں بلکہ یہ ہے کہ اپنی قومی سلامتی کو بیرونی خطرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ پاکستان کا داخلی امن براہِ راست اس کے مغربی بارڈر سے منسلک ہے۔ جب تک افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ آزادانہ نقل و حرکت اور تربیت حاصل کرتے رہیں گے، پاکستان میں امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔حقیقت یہ ہے کہ یک طرفہ صبر اور خاموشی سے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، تعاون اور سفارتی مکالمے کی پیش کش کی ہے مگر جب مخالف فریق ہر بار اس خیرسگالی کو کمزوری سمجھتا ہے تو پھر ریاست کے پاس اپنی رٹ منوانے کا عسکری راستہ ہی باقی رہ جاتا ہے۔افغانستان کے اندر بھارت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ پاکستان کے لیے ایک سنگین تزویراتی خطرہ بن چکا ہے۔ بھارت اس اثر کو نہ صرف پاکستان کے مغربی بارڈر پر دباو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ملک کے طور پر پیش کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ افغانستان میں بھارتی سرمایہ کاری، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور تعمیراتی منصوبے بظاہر ترقی کے لیے ہیں مگر ان کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے خلاف معلوماتی اور عسکری جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کو بین الاقوامی سفارتی تناظر میں درست طور پر پیش کرے۔ اسے دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کسی ملک پر جارحیت نہیں کر رہا بلکہ اپنی سالمیت کا دفاع کر رہا ہے۔ خطے میں استحکام کا دار و مدار اسی بات پر ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین دہشت گردوں سے پاک کرے۔ پاکستان کی عسکری قیادت اور حکومت دونوں نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کے لیے وہ ہر حد تک جائیں گے۔ یہ عزم ایک جانب ریاستی خوداعتمادی کی علامت ہے تو دوسری جانب ایک واضح انتباہ بھی کہ اگر دنیا نے پاکستان کے سلامتی خدشات کو نظر انداز کیا تو پورا خطہ ایک نئی غیر متوازن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کابل یہ سمجھ لے کہ پاکستان کی صبر آزما حکمت عملی اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ امن کا راستہ کھلا ہے مگر اس کے لیے پہلے دہشت گردی کے ٹھکانے ختم کرنے ہوں گے۔ پاکستان اپنی بقا کے معاملے میں اب کسی مصلحت یا تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here