ادھورا سچ!!!

0
118
ماجد جرال
ماجد جرال

حالیہ دنوں میں شائع ہونے والا مضمون جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ موجودہ نظام، بوڑھی نسل اور ریاستی بیانیہ اپنا اثر کھو چکا ہے، دراصل پاکستان کے نوجوانوں میں پائی جانے والی گہری مایوسی کا عکس ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، رہائش کا بحران، تعلیم کی زبوں حالی اور اظہارِ رائے پر قدغنیں، یہ سب مسائل حقیقی ہیں اور ان سے انکار ممکن نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے؟ یا پھر یہ ایک ایسے مکالمے کا آغاز ہونا چاہیے جو اصلاح کی راہیں تلاش کرے؟
پاکستانی نوجوان آج خود کو ایک ایسے نظام میں پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں ڈگری روزگار کی ضمانت نہیں، محنت کا صلہ تعلقات سے کم تر ہے، اور میرٹ ایک نعرہ بن چکا ہے۔ فری لانسنگ، ڈیجیٹل اکانومی اور آن لائن اظہار نوجوان کے لیے امید کی کرن ہیں، مگر یہاں بھی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال رکاوٹ بنتی ہے۔ اس پس منظر میں نوجوان کا غصہ قابلِ فہم ہے، مگر اس غصے کو مکمل انکار اور نفرت میں بدل دینا مسئلے کا حل نہیں۔یہ کہنا کہ حب الوطنی صرف سہولتوں سے جڑی ہے، پاکستانی تناظر میں ایک ادھورا تجزیہ ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قربانیوں، ہجرت، اور جدوجہد کی بنیاد پر قائم ہوا۔ یہاں حب الوطنی محض ریاستی نعرہ نہیں بلکہ ایک جذباتی اور تاریخی رشتہ بھی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نوجوان وطن سے محبت نہیں کرتا، مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود کو اس وطن میں غیر محفوظ، غیر متعلق اور غیر ضروری محسوس کرنے لگا ہے۔ یہ احساس خطرناک ضرور ہے، مگر ناقابلِ اصلاح نہیں۔مضمون میں جس طرح ریاستی اداروں اور بزرگ نسل کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا گیا، وہ پاکستانی حقیقت کی مکمل تصویر نہیں۔ یہ درست ہے کہ طاقت کے مراکز میں بیٹھے کئی افراد عوامی مسائل سے کٹے ہوئے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی نظام کے اندر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ افراد سے زیادہ نظامی کمزوریوں کا ہے۔ کمزور ادارے، عدم تسلسل، اور سیاسی عدم استحکام یا نوجوانوں کا ملک چھوڑنا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، مگر اسے محض خاموش بغاوت کہنا درست نہیں۔ پاکستان میں ہجرت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک محنت کر کے ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں جا رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم انہیں واپس آنے یا رکنے کے قابل ماحول کیوں فراہم نہیں کر پا رہے؟سب سے خطرناک پہلو نسلوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خاندانی اور سماجی ڈھانچہ نسلوں کے باہمی احترام پر قائم ہے، وہاں ہم بمقابلہ وہ کا بیانیہ سماجی ٹوٹ پھوٹ کو جنم دے سکتا ہے۔ نوجوان اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں محض سوشل میڈیا کے احتجاج پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا بلکہ مقامی سیاست، سول سوسائٹی، صحافت اور ادارہ جاتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ بات درست ہے کہ ریاست کو سننے کی ضرورت ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تبدیلی یک طرفہ نہیں ہوتی۔ نوجوانوں کو بھی تنقید کے ساتھ حل پیش کرنا ہوں گے۔ میمز وقتی تسکین دے سکتی ہیں، مگر پالیسیاں نہیں بدل سکتیں۔
آخر میں، یہ کہنا کہ کوئی نہیں سن رہا ایک خطرناک عمومی تاثر ہے۔ پاکستان میں آج بھی مکالمے کی گنجائش موجود ہے۔عدلیہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوامی دبا کے ذریعے۔ اگر واقعی کچھ ختم ہو رہا ہے تو وہ اعتماد ہے، اور اگر اسے بحال نہ کیا گیا تو نقصان صرف ایک نسل کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہوگا۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here