وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امن کے خواہاں ہیں اور وہ ماضی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنگ بندی کے عمل میں فعال کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بات پاکستان کے لیے باعث اطمینان ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سربراہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے متحرک ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اس پہلو پر بھی زور دیا کہ امریکا پاکستان کے اندر آئی ٹی، زراعت، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو فوری طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کرنے کی ہدایت دی ہے جو یقینا ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔ شہباز شریف نے تجارتی معاہدوں کے حوالے سے کہا کہ یہ سب کچھ باہمی مفادات کے تحت ہوگا اور پاکستان کے قدرتی وسائل کی قیمت کا منصفانہ تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا اور صدر ٹرمپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ پاکستان اس وقت داخلی و خارجی سطح پر ایسے حالات کا سامنا کر رہا ہے جن میں معاشی استحکام اولین ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کے باوجود ملک کو سرمایہ کاری کے میدان میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کا حق دار ہے۔ دوسری طرف امریکا بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔ افغانستان کی صورتِ حال ہو یا وسطی ایشیا میں توانائی کے منصوبے، پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے ناگزیر شراکت دار بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے۔ البتہ اس تعاون کی بنیاد صرف سکیورٹی یا عسکری معاملات پر نہیں رہنی چاہیے بلکہ تجارت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے میدان بھی اس میں شامل ہونا چاہئیں تاکہ تعلقات یک رخے ہونے کے بجائے ہمہ جہت ترقی کی راہ ہموار کریں۔ سرمایہ کاری اور تعاون کے امکانات کو دیکھیں تو پاکستان کے اندر بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد جدید مہارتوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اگر امریکی کمپنیاں اس شعبے میں شراکت کریں تو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ زراعت میں امریکا کی ٹیکنالوجی اور تحقیق پاکستان کے روایتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر سکتی ہے جس سے خوراک کی پیداوار بڑھے گی اور دیہی معیشت مضبوط ہوگی۔ معدنیات کا شعبہ بھی اپنی گنجائش کے اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑ قیمتی دھاتوں اور پتھروں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ان کی کان کنی اور پراسیسنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ اگر اس میدان میں امریکی سرمایہ آئے تو نہ صرف قیمتی ذخائر بروئے کار لائے جا سکتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ قابل تجدید توانائی، خصوصا سولر اور ونڈ انرجی میں امریکی سرمایہ کاری پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان تمام مواقع کے باوجود کچھ خدشات اور سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور پالیسی ساز یہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکا سرمایہ کاری کو محض اپنے تجارتی مفاد تک محدود نہ رکھے بلکہ اس میں پاکستان کے عوام کی فلاح اور معاشی خودمختاری کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ بعض بڑے منصوبوں میں پاکستان کو اس کے وسائل کی حقیقی قیمت نہیں ملی، اس لیے یہ اصرار بجا ہے کہ معدنیات یا دیگر قدرتی وسائل کا مناسب اور منصفانہ تعین ہو۔ اسی طرح سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ اس کی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کیا جائے ۔ آگے بڑھنے کے لیے لائحہ عمل کی طرف آئیں تو سب سے پہلی ضرورت ایک شفاف اور پائیدار پالیسی کی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکا کے ساتھ ہونے والے ہر معاہدے کو ادارہ جاتی سطح پر لے کر آئے تاکہ یہ تعاون شخصیات یا وقتی سیاسی حکومتوں پر منحصر نہ رہے بلکہ ریاستی پالیسی کا حصہ بنے۔ دوسرے مرحلے پر ان شعبوں کی ترجیحات طے کی جائیں جن میں سرمایہ کاری فوری نتائج دے سکتی ہے۔ مثلا آئی ٹی اور زراعت ایسے شعبے ہیں جن میں جلد از جلد برآمدات اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ معدنیات اور توانائی کے منصوبے اگرچہ طویل المدتی ہیں مگر ان کے اثرات زیادہ دیرپا ہوں گے۔ تیسرے پہلو پر عوامی سطح پر اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ اگر حکومت شفافیت سے آگے بڑھے اور یہ باور کرائے کہ ہر منصوبے کا فائدہ براہ راست عوام کو ملے گا تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے محض ایک ملاقات کافی نہیں بلکہ ایک تسلسل اور باہمی اعتماد کی فضا درکار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اگرچہ امریکا کے اپنے داخلی اور خارجی مسائل ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی شراکت داری ناگزیر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اگر یہ آغاز کیا ہے تو اس کو پالیسی، حکمت عملی اور ادارہ جاتی عمل کے ذریعے آگے بڑھانا ہوگا۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، خطے میں نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں، ایسے میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کا نیا باب کھلنا صرف دونوں ملکوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
٭٭٭










