اقوام متحدہ کی محفلوں کا خاتمہ !!!

0
250
رمضان رانا
رمضان رانا

اقوام متحدہ کا سالانہ محفلوں کا خاتمہ ہوا جس میں زیادہ تر اسرائیل موضوع بحث رہا کہ اسرائیل میں دنیا کی بدترین انسانی نسل کشی جاری ہے جس کا واحد حل دو ریاست ہے کہ ایک نئی مسلط کردہ اسرائیل دوسری قدیم فلسطین ریاستیں تسلیم کی جائیں جس کو دنیا بھر کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک نے تسلیم کیا کہ اب فلسطین ریاست کا وجود واپس قائم کیا جائے جس کو1948میں برطانوی سامراجی استعماری طاقت نے اپنے بلغاسٹ معاہدے کے تحت دنیا بھر خصوصاً یورپین یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا۔ چونکہ مسلط کردہ ریاست اسرائیل کے صہیونیت پرست اور ہٹلر نما حکمران نتھن یاہو نے ستر ہزار بے گناہ اور معصوم فلسطینی عوام قتل کر ڈالے جس میں اکثریت بچوں کی ہے جس میں لاکھوں زخمی، بے گھر اور بے در ہوچکے ہیں جس پر آج پوری دنیا ماتم کر رہی ہے۔ کہ جن کو پانی، خوراک، اور ادویات سے بھی محروم کر رکھا ہوا ہے۔ کہ اتنے بچے فرعون اعظم نے نہیں مارے تھے جتنے نتھن یاہو مار رہا ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کو خطاب کرنے کے لئے جب نتھن یاہو آیا تو سو سے زیادہ سفارش کار اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے جنہوں نے باقاعدہ بائیکاٹ کیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں بڑے بڑے حکمران شریک تھے۔ جس میں بعض حکمرانوں کی تقاریر نے اجلاس کو بہتر افسردہ کیا اور رنجیدکیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو گالیوں سے نوازہ کہ جو کام اقوام متحدہ نے جنگیں رکوانے کا کرنا تھا وہ میں نے کیا ہے کہ میں نے سات جنگوں کو روکا ہے اگر بھارت اور پاکستان کی جنگ کو نہ رکواتا تو کروڑوں انسان ایٹمی جنگ سے ختم ہوجاتا۔ دوران تقریر انہوں نے اپنی بیگم خاتون اول کے ساتھ اقوام متحدہ میں کوئی واقعہ آنے کا بھی گلہ کیا۔ یا پھر انہوں نے نتھن یاہو کو ویسٹ بنک کی طرف رخ کرنے پر سختی سے روکا ہے جو نہ جانے کس قطر کی طرح نہ ہو کہ اسرائیل ویسٹ بنک فلسطین پر بھی حملہ کردے۔ دوسری بڑی درد ناک تقریر ترکیہ کے صدر اردگان کی تھی جنہوں نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عوام کی نسل کشی کی تصاویریں دیکھائی جس میں بچوں پر ظلم وستم دیکھایا گیا جو حاضرین پر بہت بڑا افسردگی کا اثر ہوا یہی وجوہات تھیں کہ اقوام متحدہ کا اجلاس فلسطین میں نسل کشی کی نظر ہوگیا جس کو کہا جاسکتا تھا کہ اس دفعہ اقوام متحدہ کا اجلاس میں زیادہ ذکر فلسطینی عوام اور ریاست کا رہا ہے۔ جس نے انسانیت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے کہ آج پوری دنیا کا انسان فلسطین کے عوام پر افسردہ اور غم زدہ ہے۔ مزید برآں امریکی صدر ٹرمپ نے سات مسلم ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ ملاقات کی پھر پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ خصوصی ملاقات کی تھی جس کا ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں میں اسرائیل کے صہیونی حکمرانوں کو قابو پانے کے لئے شاید مسلم ممالک کی فوج غزہ اور ویسٹ بنک میں بطور نگران فوج تعین کی جائے گی جس میں پاکستان کی فوج کو ترجیح دی جارہی ہے تاکہ دو ریاستی اوسط معاہدے کو دوبارہ زندہ کرکے مستقبل بنیادوں پر عمل کیا جائے تاکہ انسانیت کو بچایا جائے جو کسی بھی وقت دنیا کی کسی ہولناک اور خوفناک جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔علاوہ ازیں اس دفعہ اقوام متحد میں خود ساختہ دنیا کی پانچویں طاقت بھارت غائب تھی ورنہ بھارتی وزیراعظم مودی اقوام متحدہ پر چھایا ہوا نظر آتا تھا شاید ان کو پانچویں طاقت بنانے قرار دینے والی واحد طاقت امریکہ نے رسوا کردیا ہے کہ یہ سب کچھ میری وجہ تھی ورنہ آپ تو ایک چھوٹے سے ملک پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہو لہٰذا اب تم اپنی اوقات میں آجائو جو آپ اپنے آپے سے باہر آچکے تھے۔ بہرحال اقوام متحدہ کا اجلاس گرما گرم رہا ہے پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر پیش کیا گیا جس پر اب عمل کرنا باقی ہوگا جو اب وقت بتائے گا کہ اقوام متحدہ کا اجلاس اہم تھا یا پھر ٹائیں ٹائیں فش تھا۔ اجلاس میں افغانستان اور بھارت کی پیدا کردہ دہشت گردی پر بھی بات چیت جاری رہی جس میں بلوچستان لبریشن آرمی کو دہشت گرد گروہ قرار دیا گیا ہے جس کا اب بھارت کو الزام جائے گا کہ وہ علاقے میں دہشت گردوں کو پال رہا ہے تاکہ اس علاقے میں بھی امن بحال نہ ہوپائے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here