واشنگٹن (پاکستان نیوز) ترجمان وائٹ ہائو س نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی مزید 12 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، اس اقدام کا مقصد عوام کی حفاظت اور سڑکوں پر ممکنہ ہلاکتوں یا زخمی ہونے سے بچانا ہے۔وائٹ ہائو س کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیابریفنگ میں بتایا کہ منی سوٹا میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ امریکا کی سڑکوں پر لوگوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کے منظر کو نہیں دیکھنا چاہتے، تاہم وہ منی سوٹا میں خطرناک غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز اور منی ایپولس کے میئر پر عوام کو بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منی ایپولس میں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد مقامی قیادت کا ردعمل خطرناک ہے اور ان کے بیانات حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ میئر اور گورنر کی بیان بازی احتجاج کو بغاوت میں تبدیل کر رہی ہے، جس سے امن و امان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کی قیادت کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا جواب تشدد نہیں ہو سکتا۔ گورنر نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ ریاست سے وفاقی فورسز کو واپس بلایا جائے۔ گورنر ٹِم والز نے مزید کہا کہ امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (ICE) کے اقدامات میں بے رحمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف سے دو بار بات کی ہے، تاہم انہیں صدر کے درست فیصلوں پر زیادہ اعتماد نہیں۔ واضح رہے کہ منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا، جس کے بعد شہر میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یاد رہے کہ 7 جنوری کو بھی منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون رینی گڈ ہلاک ہوئی تھیں، جس کے بعد ریاست میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔













