ڈیوووس (پاکستان نیوز) ڈیووس میں ہونیوالے ورلڈ اکنامک فورم 2026کے 56ویں اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ سمیت عالمی رہنمائوں نے شرکت کی ، اس اجلاس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں ہونیوالی ملاقاتوں اور معاہدوں کو عام دنیا سے چھپایا جا تا ہے اور تمام تفصیلات سامنے نہیں لائی جاتی ہیں، حالیہ اجلاس میں 60 ممالک کے سربراہان، دنیا کی طاقتور ترین 850 کمپنیوں کے چیئرمین، 400 عالمی سیاسی رہنمائوں کے علاوہ 10 ہزار کے قریب مختلف شعبوں کے ماہرین، سول سوسائٹی کے ممبران اور صحافیوں نے شرکت کی۔مرکزی اجلاس کے علاوہ اس کی سائیڈ لائن ملاقاتیں خفیہ رکھی جاتی ہیں جن کے بارے میں عام لوگ کبھی نہیں جان پاتے کہ یہاں کس ملک اور کس کمپنی کے درمیان کیا طے پاتا ہے؟ ورلڈ اکنامک فورم کو عمومی معنوں میں ایک این جی او کہا جا سکتا ہے، جس کی حیثیت مشاورتی ہے۔ بورڈ آف ٹرسٹیز ہی اس کا مدارالمہام ہوتا ہے جس میں دنیا کے اہم ترین کاروباری اور سیاسی رہنما شامل ہوتے ہیں۔اس کی بنیاد 24 جنوری 1971 کو ایک جرمن انجینیئر کلوس شواب (Klaus Schwab) نے رکھی تھی، جس کا مقصد مملکتوں، کاروباروں اور سماجی رہنمائوں کو ایک دوسرے سے مربوط بنانا تھا۔ شروع میں اس کا نام یورپین مینیجمنٹ فورم تھا، جسے1987 میں ورلڈ اکنامک فورم کا نام دے دیا گیا۔اس کے اساسی ممبران میں دنیا کی 1ہزار بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ صرف وہی کمپنی اس کی ممبر بن سکتی ہے جس کا سالانہ ٹرن اوور کم از کم 5 ارب ڈالر ہو، یہ کمپنی سالانہ ایک ملین ڈالر تک کی ممبر شپ فیس بھی ادا کرتی ہے۔اس کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر حکومتیں، کارپوریشنز اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں اپنے الگ اجلاس بھی منعقد کرتی ہیں۔یہاں مرکزی اجلاس کے علاوہ سائیڈ لائن اجلاسوں کی تعداد 400 تک جا پہنچتی ہے اور یہی اجلاس دراصل اس نیٹ ورکنگ کی بنیاد بنتے ہیں ‘جہاں امیر کمپنیاں عالمی غیر منتخب حکومت’ کا کردار ادا کرتے ہوئے غریب ممالک کے وسائل ہڑپ کرنے کے منصوبے بنا کر انہیں اس جانب راغب کرتی ہیں۔ڈیووس میں اجلاس کے موقعے پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے طاقتور فورم سمجھا جاتا ہے جہاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی طرح عالمی مسائل پر صرف تقریریں نہیں ہوتیں بلکہ ان سے آگے کے معاملات ہوتے ہیں۔بظاہر اس عالمی سطح کے مکالمے کو مشترکہ تعاون اور مسائل کے حل کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ فورم جدید دنیا کی طاقت کے اس ڈھانچے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، جن میں میڈیا کو رسائی نہیں دی جاتی۔یہاں دنیا کے وہ لوگ اکٹھے ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سرمایہ، ٹیکنالوجی، اسلحہ، میڈیا اور مالیاتی اداروں کی طاقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی لوگ واقعی عام انسان کے مسائل کا حل چاہتے ہیں یا وہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہیںکیونکہ اس کے شرکا میں مزدور، کسان، اساتذہ یا میڈیا کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے تاثر یہی ہے کہ یہ فورم کارپوریٹ بالادستی کی نمائندگی کرتا ہے۔ فورم کے حامی کہتے ہیں کہ یہاں فیصلے نہیں ہوتے بلکہ صرف تبادلہ خیالات ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معاشی، سماجی یا ماحولیاتی حوالوں سے جو کچھ طے پاتا ہے اسی کی جھلک ہمیں عالمی پالیسیوں میں ملتی ہے۔پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر دنیا کے ممالک وہاں کیا کرنے جاتے ہیں؟ یہ ممالک وہاں سرمایہ کاری کی اپیلوں، نئے قرضوں کی یقین دہانی اور عالمی کمپنیوں کو مطلوبہ مراعات دینے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اصل ایجنڈا وہی طے کرتے ہیں جن کے پاس سرمایہ اور طاقت ہوتی ہے۔اپنی خصوصیت کی بنیاد پر ورلڈ اکنامک فورم دراصل اشرافیہ کا ایک کلب بن جاتا ہے جہاں صرف انہی کے مفادات کے تحفظ کی بات ہوتی ہے۔ سیاسی مفکر سیمول پی ہنٹنگٹن نے اس شرافیہ کے لیے ایک نیا لفظ ‘ڈیووس مین’ استعمال کیا ہے۔ یہ اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو قومی وفاداری کی بہت کم ضرورت محسوس کرتے ہیں، قومی سرحدوں کو ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں اور قومی حکومتوں کو ماضی کی باقیات سمجھتے ہیں، جن کا واحد کارآمد کام اشرفیہ کی عالمی سرگرمیوں کو آسان بنانا رہ گیا ہے۔نیدر لینڈز میں قائم ٹرانس نیشنل انسٹی ٹیوٹ ورلڈ اکنامک فورم کے بنیادی مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ‘یہ ابھرتی ہوئی عالمی اشرافیہ کے لیے ایک سماجی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے یعنی بین الاقوامی مالیاتی و صنعتی ‘مافیا کریسی’ جس میں بینکرز، صنعت کار، امرا، ٹیکنو کریٹس اور سیاست دان شامل ہیں، وہ اس کے ذریعے اپنے مفادات کی نگہبانی کرتے ہیں۔یورپی پارلیمنٹ کے تھنک ٹینک (EPRS) کے مطابق ‘2009 سے ورلڈ اکناک فورم ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جسے ‘گلوبل ری ڈیزائن انیشی ایٹو’ (GRI) کہا جاتا ہے جو بین الحکومتی فیصلہ سازی سے ہٹ کر ایک کثیر فریقین پر مبنی نظام کی طرف منتقلی کی تجویز پیش کرتا ہے، جہاں سیاسی و کاروباری افراد اپنے ووٹرز یا شیئر ہولڈرز کو جوابدہ ہوئے بغیر فیصلے کر سکتے ہیں۔ڈیووس کے سالانہ اجتماع میں اگرچہ وہی عالمی کمپنیاں صف اوّل میں ہوتی ہیں جن کے کاروبار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری جانب غریب مزید غریب تر ہو رہا ہوتا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ پیسہ چند ہاتھوں میں سمٹ رہا ہے۔برطانوی ادارے اوکسفیم نے ایک سوئس ادارے CSRI کی ایک رپورٹ بھی یہاں پیش کی تھی، جس کے مطابق دنیا کے ایک فیصد امیر لوگوں کے پاس دنیا کی کل دولت کا 48 فیصد ہے۔ اسی ادارے نے 2019 میں ڈیووس میں کہا تھا کہ دنیا کے 2,200 ارب پتیوں کی دولت سالانہ 12 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب غریب لوگوں کی آمدن 11 فیصد سالانہ کے حساب سے کم ہو رہی ہے۔










