نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک ٹائمز کی ایک سنسنی خیز رپورٹ نے امریکہ بھر میں ہلچل مچا دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف بی آئی نے اپنے اہلکاروں کو ہوم لینڈ سیکیورٹی کے شعبے آئس کے ایجنٹوں کے ساتھ شہریوں یا تارکین وطن کے پرتشدد تصادم کی تحقیقات کرنے سے روک دیا ہے۔ اس ہدایت کے تحت اب ان واقعات کی تمام تر جانچ کی ذمہ داری خود اسی ادارے کے پاس رہے گی، جس پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انسداد تشدد اور شہری حقوق کی خلاف ورزیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات متاثر ہوں گی۔ یہ متنازع قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں آئس ایجنٹوں کے ہاتھوں ہونے والی حالیہ ہلاکتوں پر شدید احتجاج جاری ہے۔ حال ہی میں ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں لورینزو سالگاڈو اراؤجو اور مین میں جوان سیباسٹین گیریرو وفاقی ایجنٹوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ اس کے بعد نارتھ کیرولائنا، اوریگون، یوٹاہ، ایریزونا، اور دیگر ریاستوں میں عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔ تاہم امریکہ کے محکمہ انصاف اور ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئس اور ایف بی آئی کے باہمی تعاون میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ اس رپورٹ پر جہاں امریکی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیا ہے، وہیں انتظامیہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایجنٹوں کو بلاوجہ کی رکاوٹوں کے بغیر اپنا کام کرنے میں مدد ملے گی۔ دریں اثنا، مین کے واقعے میں ملوث ایجنٹ ڈیوڈ برولیٹ پر ماضی میں گھریلو تشدد اور ہراسانی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس تمام تر تنازع کے درمیان ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کوئی براہ راست ردعمل دینے کے بجائے فٹ بال ورلڈ کپ کی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کی۔












