واشنگٹن (پاکستان نیوز)ڈیموکریٹک قانون ساز نے ایوان میں شریعت سے متعلق سماعت کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے معاشی اور دیگر آئینی مسائل کو ایجنڈے کا حصہ بنانے پر زور دیا۔امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس پرمیلا جے پال نے اسلامی شریعت اور امریکی قانون کے موضوع پر انعقاد کی جانے والی سماعت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک سیاسی ڈرامہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت شدید معاشی مشکلات، افراطِ زر، پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور صحت کی دیکھ بھال کے سنگین اخراجات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن پارلیمانی وقت کو ان اہم مسائل کی بجائے مذہبی موضوعات پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد اقلیتوں اور بالخصوص سیاہ فام شہریوں کے انتخابی حقوق کی پامالی اور بغیر پارلیمانی منظوری کے غیر آئینی عسکری اخراجات جیسے آئینی امور کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران مذہبی آزادی سے متعلق ماہر امانڈا ٹائلر کے ساتھ گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ مسلم امریکیوں کی جانب سے شریعت پر عمل پیرا ہونا کسی طور پر امریکی قوانین یا آئین کی خلاف ورزی کا موجب نہیں بنتا۔ شریعت دراصل فرد کی ذاتی اور مذہبی زندگی میں رہنمائی فراہم کرنے والے اصولوں کا نام ہے جو دیگر تمام مذہبی تعلیمی ڈھانچوں کی طرح عمل میں لائے جاتے ہیں۔ پرمیلا جے پال نے افسوس کا اظہار کیا کہ سفید فام عیسائی قوم پرستی کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے باوجود کسی خاص مذہب کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، لیکن مسلمانوں کے خلاف مسلسل متنازع قانون سازی اور تعصب پر مبنی رویوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس قسم کی غیر ضروری سماعتیں معاشرے میں تقسیم اور مسلمان شہریوں کے خلاف نفرت انگیز رویوں کو مزید بڑھاوا دیتی ہیں۔













