عمران خان کے بچے کیوں نہیں !!!

0
323
رمضان رانا
رمضان رانا

اگرچہ عمران خان وارثتی سیاست کے مخالف بولتے رہے کہ بھٹو اور شریف خاندان پر وارثتی سیاست کا غلبہ ہے جو کافی حد تک ٹھیک بھی ہے کہ جب سیاست خاندان کے افراد کا غلبہ ہو تو سیاست شخصیت پرستی اختیار کر جاتی ہے جس کے بعد عام سیاسی کارکنوں کا استحصال شروع ہوجاتا ہے جیسا کہ بھٹو خاندان اور شریف خاندان کا غلبہ سیاست پر قبضہ نظرآرہا ہے کہ ایک طرف بھٹو، بینظیر بھٹو، نصرت بھٹو کے بعد زرداری، بیٹا بلاول بھٹو بیٹی آصفہ بھٹو اور بہن فریال تالپور ہیں، دوسری طرف نواز شریف بیٹی مریم نواز، بھائی شہباز شریف، بھتیجا حمزہ شریف، سمدی اسحاق ڈار اور دوسرے رشتے داران شامل ہیں جس سے سیاسی پارٹی کی بجائے خاندانی وراثت پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کی جمہوری ملکوں میںبہت کم مثال ملتی ہے کہ آج امریکہ اور برطانیہ کی سیاسی پارٹیوں کو صدیاں گزر گئی ہیں کسی وارثت کا نشان نہیں ملتا ہے مگرعمران خان بھی وارثت کے قائل نکلے جن کی بیگمات ریحام خان، بی بی بشرا، تنیوں بہنیں بھانجے، قریبی رشتے داروں کے علاوہ آج بیٹے قاسم اور سلیمان بھی سیاست میں حصہ لینے کے لئے پاکستان پہنچ رہے ہیں جن میں عمران خان کی بیٹی ٹیریان خان نہ جانے کیوں شریک نہیں ہو رہی ہے حالانکہ ٹیریان بھی عمران خان کا خون ہے شاید وہ بدبخت اور بدقسمت بچی بنا شادی پیدا ہوئی تھی جن کو وہی درجہ دیا گیا ہے جس طرح بڑے بڑے جاگیرداروں، وڈیروں، مالداروں اور دولت مندوں کے بچے طوائف خانوں میں پیدا ہوئے ہیں جن کو ولایت کا نام نہیں ملتا ہے جو زندگی بھر طوائف خانوں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ اسی لئے شاید بٹریان اپنے بھائیوں قاسم اور سلیمان کے ساتھ نہیں آپائے گی حالانکہ عمران خان کی نوجوانی اور جوانی مغربی دنیا میں گزری ہے یہاں آج بنا شادی یا فادریس بچوں کو بھی والدین کی وارثت میں وہی حصہ ملتا ہے۔جتنا شادی شدہ والدین کے بچوں کو ملتا ہے۔ لہذا اگر عمران خان اپنی بیٹی کو کھلے عام قبول نہیں کرے گا تو وہ دنیا میں ایک نیا والد اور لاوارث بچی کہلائے گی۔جوکہ ایک بہت بڑا انسانی جرم ہے۔ جس کی پاسداری مغربی دنیا میں رکھی جاتی ہے۔ کہ جب امریکہ کی سول رائٹس تحریک کے رہنما جیسی جیکسن کے ہاں بناشا دی بچی پیدا ہوئی جس کا میڈیا میں چرچا ہوا تو جیسی جیکسن نے بچی کو اپنی بچی قبول کرکے سیاست سے کنارہ کشی کرلی ہے۔ تاہم سیاست میں حصہ لینا ہر شخص کا جمہوری حق ہے اس لئے عمران خان کے بچوں کو پاکستان میں سیاست میں حصہ لینے کا مکمل حق حاصل ہے۔ شرطیکہ وہ پاکستان شہری ہوں جو کل منتخب ہو کر ملک کے سربراہ وزیر اورسفیر بنیں گے۔ اس لئے حکومت پاکستان ان کے بچوں کو شہریت کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے۔ اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ان کو ملک میں داخلے سے روکنا قانونی اور آئینی جرم ہوگا لیکن وہ برطانوی شہری ہیں تو پھر حکومت پاکستان کے پاس مکمل اختیارات ہیں کہ وہ ویزا نہ دے۔ ویزا محدود ہے باپ سے ملاقات کرائے یا نہ کرائے۔ سیاست میں ملوث ہونے پر ملک بدر کرے یا نہ کرے۔ پر حکومت کے اختیارات میں شامل ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here