امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی اپنے دورِ اقتدار کے دوسرے سال کی افتتاحی تقریب میں تقریر کا آغاز کیا ہی تھا کہ ایک رپورٹر اُن پر برس پڑی، رپورٹر نے اُن کی توجہ اپنی جانب کراتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ امریکا کے سنہرے دور کا آغاز شروع ہوچکا ہے، لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ نیویارک میں آپ کے ٹرمپ پلازہ کے سامنے مظاہرہ ہورہاہے، ”مظاہرین کیا نعرہ لگارہے ہیں ؟”
ٹرمپ نے سرگوشی کے لہجے میں رپورٹر سے پوچھا ” ظاہر ہے وہ آپ کے دورِ اقتدار کا گُن تو نہیں گا رہے ہونگے ” رپورٹر نے جواب دیا ” لیکن کیا تمہیں کسی تہذیب سے کبھی واسطہ پڑا ہے ؟” ٹرمپ نے رپورٹر سے پوچھا ” جب امریکا کا صدر ہی تہذیب یافتہ نہیں تو میں کس طرح ہوسکتا ہوں”
” ٹھیک ہے تم اِس جلسے کیلئے بین ہو ، اور مستقبل میں تم میری کسی بھی کانفرنس یا جلسے کیلئے بھی بین رہوگی” امریکی صدر نے کہا ” کیا یہ مسلم بین ہے؟ ” رپورٹر نے پوچھا ، شٹ اپ ، آؤٹ،سیکیورٹی کے اہلکاروں نے اُس رپورٹر کو باہر نکال دیا، اور صدر امریکا نے اپنی تقریر پھرشروع کردی۔صدر نے کہا کہ” آج کے بعد سے ہمارا ملک ترقی کرے گا اور ساری دنیا میں عزت کی نگاہوں سے دیکھا جائیگا،ہم لوگ ہر دوسری قوم سے حسد کرینگے اور ہم لوگ کسی دوسرے ملک کو یہ اجازت نہیں دینگے کہ وہ ہم سے ناجائز فائدہ اٹھائے، ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے مستقبل کے ہر دِن میں ہم امریکا فرسٹ کو مد نظر رکھیں گے،ہم اپنی خودمختاری کو بحال کرینگے اور اپنی سرحد کی حفاظت کرینگے۔امریکا جلد ہی ایک عظیم ، طاقتور اور ایک مثالی ملک بن جائیگا”اِسی دوران کسی نے” آئس آؤٹ ” کا نعرہ لگادیا اور پھر آئس آؤٹ ، آئس آؤٹ کے نعروں سے جلسہ گاہ گونج پڑا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریر جاری رکھی اور اُنہوں نے کہا کہ جیسے ہم لوگ یہاں جمع ہیں لیکن ہماری حکومت اعتماد کے بحران سے دوچار ہے،سالوں سال سے بدعنوان اور انتہا پسند عناصروں نے عوام کے خزانے اور اُن کے حقوق کو لوٹا ہے اور ہماری سوسائٹی کے ستونوں میں دراڑیں پڑگئی ہیں اور وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں،ہماری حکومت غیر ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے لامحدود فنڈنگ فراہم کی ہیں لیکن خود اپنے ملک کی سرحد یا خاص طور پر اپنے ملک کے عوام کو انکار کردیا ہے،ہمارا ملک ایمرجنسی کے دوران اپنے ملک کے عوام کو بنیادی ضرورت کی اشیاء بھی فراہم نہیں کرسکتا ہے جیسا کہ ہم لوگ لاس اینجلس کی آتشزدگی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو ہفتوں سے بغیر کسی دفاعی کاروائی کے جاری ہے،آگ کا شعلہ گھروں کو جلاکر خاکستر کر رہا ہے، عام لوگوں کا گھر یا انتہائی امیر اور بااثر لوگوں کا گھر جل کر خاک ہو رہا ہے اور بلکہ وہ حضرات یہاں تشریف فرما ہیں،دلچسپ امر یہ ہے کہ اُن لوگوں کے پاس اب کوئی مکان نہیں ہے۔ہم لوگوں کے پاس ایک پبلک ہیلتھ سسٹم ہے لیکن آفت کے دوران یہ ناکارہ ہوجاتا ہے جبکہ اِس پر اتنی رقمیں خرچ کی جاتی ہیں جو دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہوتی ہیں، ہم لوگوں کے پاس ایک تعلیمی نظام ہے جو ہمارے بچوں کو خود پر شرمندہ اور اپنے ملک سے نفرت کرنے کا سبق سکھاتا ہے جبکہ ہم حتی الا مکان اُنہیں محبت کرنے کا سبق سکھاتے ہیں،اِسی دوران ایک شریک جلسہ اٹھ پڑا اور چیخ کر کہنے لگا کہ ” رینی گُڈ ایک دہشت گرد نہیں تھی ، اُس کے قتل کے ذمہ دار تم ہو”( واضح رہے کہ اِسی سال کے جنوری 7 کو ایک مظاہرے کے دوران آئس کے ایک اہلکار نے 37 سالہ رینی گُڈ کے سر میں اپنے پستول سے تین گولی مار کر ہلاک کردیا تھا )
سیکیورٹی کے اہلکاروں نے اُس کھڑے ہونے اور احتجاج کرنے والے شخص کو پکڑ کر باہر نکال دیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر پھر شروع کردیتے ہیں ” اُنہوں نے کہا کہ ” گذشتہ آٹھ سال کے
دوران مجھے اتنی مرتبہ امتحان و مقابلے سے گزرنا پڑا جتنی مرتبہ امریکا کی دو سو پچاس سال کی تاریخ میں
کسی اور صدر کو نہیں، اور اِن تجربات سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے،جمہوری ریاست کو دوبارہ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہ تھا ، میں یہ آپ کو کہہ سکتا ہوں. میرے مخالفین نے ہماری آزادی کو سلب حتی کہ میری جان لینے کی کوشش کی تھی. چند ماہ قبل پنسلوانیا کے ایک خوبصورت میدان میں ایک قاتل کی چلائی ہوئی گولی ہمارے کان کو چھیدتے ہوے نکل گئی تھی، میں نے اُس وقت بھی اور اب بھی یہ سوچتا ہوں کہ میری جان بچ جانے کی کوئی وجہ تھی، خداوند تعالیٰ نے مجھے محفوظ رکھا تھا تاکہ میں امریکا کو دوبارہ ایک عظیم ملک بنا سکوں ”لیکن ایک شریک جلسہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ” جس طرح آپ کو اپنی اور امریکا کی آزادی عزیز ہے، اُسی طرح گرین لینڈ کے شہری بھی اپنی آزادی کے سائے میں خوش و خرم کی زندگی بسر کر رہے ہیں ، آپ اُن کی آزادی کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش نہ کریں”
”ہم اُن کی آزادی کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، بلکہ اُن کے چھوٹے سے ملک کو خرید کر اُنہیں ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں ” صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا، ”امریکی شہریوں کیلئے 20 جنوری 2025 ء ایک آزادی کا دِن ہے، مجھے اُمید ہے کہ ماضی قریب کا انتخاب امریکا کی تاریخ میں سب سے زیادہ صاف و شفاف انتخاب کے طور پر یاد کیا جائیگا”۔












