غزہ امن بورڈ سچ یا نفاق ؟

0
10
جاوید رانا

قارئین کرام ، ہمارے گذشتہ کالم سفر نامہ کی پسندیدگی ہمارے لئے زاد راہ اس حوالے سے بنی ہے کہ عالمی و قومی اور سیاسی امور پر ہماری معروضات کے ساتھ دیگر معاملات پر بھی آپ کی تحسین ہماری تحریروں کو مہمیز دیتی ہے اور بطور صحافی آپ کی محبتیں ہی میرا سرمایہ ہیں، اللہ پاک آپ کے اور ہمارے درمیان اس تعلق کو تادیر قائم رکھے۔ آمین۔عالمی منظر نامہ ہو یا وطن عزیز کے معروضی حالات، ہمارے ایک گزشتہ کالم کے بموجب مائٹ از رائٹ کے ایجنڈے کے مطابق متعین اصول ہی روبہ عمل نظر آتے ہیں، امریکی نیشنل اسٹریٹجی پالیسی کے تحت ہوں یا وطن عزیز کے ہائبرڈ رجیم کے ناطے سب ایک ہی مقصد کے عکاس کہ مقتدرین ہی حاوی اور با اختیار ہیں۔ ٹرمپ ڈاکٹرائن بلکہ امریکی ایڈمنسٹریشن کی پالیسیوں اور اہداف میں تارکین یعنی امیگرینٹس، ملحقہ و منسلکہ ممالک حتیٰ کہ عالمی حوالوں اور ایجنڈے کے حوالے سے ہم بہت کچھ لکھتے و پیش بینی کرتے رہے ہیں اور اثرات پر اپنا تجزیہ و تبصرہ بھی کرتے رہے ہیں تا ہم غزہ و فلسطین کے حوالے سے غزہ امن (Peace) بورڈ کے حوالے سے جو کھیل کھیلاجا رہا ہے وہ ایک طرف لے پالک اسرائیل کے تحفظ کیلئے تو دوسری طرف اقوام متحدہ کی بین الاقوامی حیثیت کو متاثر کرنے کی بد ترین سازش اور امریکی بلکہ ٹرمپ کی بلا شرکت غیرے خطہ ارض کو تابع بنانے کی مذموم تدبیر ہے۔ یہی نہیں اس واردات سے جن ممالک نے اس کا حصہ نہ بننے کا عندیہ دیا ٹرمپ نے اپنی فطرت کے مطابق سنگین دھمکیوں اور ٹیرف حتیٰ کہ جنگ اور رجیم چینج بھگتنے کی وعید بھی دے دی گئی۔ قارئین ابلاغ کے مختلف ذرائع کے توسط سے تفصیلات سے بخوبی آگا ہی پا چکے ہیں کہ نیٹو کے معاہدے میں منسلک یورپی ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیدر لینڈ، ڈنمارک و سویڈن وغیرہ نیز کینیڈا نے ہری جھنڈی دکھا دی اور ٹرمپ نے اپنی فطرت کے مطابق ٹرمپ نے جہاں دھونس دھمکی نہ چل پائے وہاں مذاکرات و سبز باغ دکھانے کا تماشہ شروع کر دیا ہے۔
ہم نے جیسا کہ سطور بالا میں نشاندہی کی ہے کہ یہ سب ڈھکوسلہ اقوام متحدہ کو غیر متاثر کرنے کی غرض اور امریکی عالمی تناظر میں برتری کے لئے کیا جا رہا ہے وہیں یہ امر بھی قابل فکر ہے کہ سعودی عرب ،قطر، یو اے ای حتیٰ کہ پاکستان وتر کی سمیت تقریباً بیشتر مسلم ممالک اس معاہدے کا حصہ ہیں۔ ایک سفارتی مبصر کے مطابق ان میں سے بیشتر ممالک یا تو امریکی زیر اثر ہیں یا ان کے مفادات امریکی عسکری، معاشی و دیگر حوالوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں غزہ امن معاہدہ مظلوم فلسطینیوں یا 1967ء کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق فلسطینی ریاست کا سبب بن سکے گا یا اسرائیل ونیتن یا ہوکے ایجنڈے گریٹر اسرائیل کی تکمیل کا ذریعہ بنے گا۔ کیا اسلامی ممالک اپنے دعوئوںکے مطابق فلسطینیوں کے قتل عام کے تدارک، آزادی اور فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کو یقینی بنا سکیں گے؟ ایران کو ٹرمپ کی دھمکیاں ، جنگی بحری جہازوں کی بحر قلمز میں موجودگی اور فوج کی کی پیشقدمی جیسی حرکات تو اس امرکی نشاندھی ہے کہ امریکی مفاد محض اسرائیل کے تحفظ اور اپنی سبقت کو عالمگیر بنانے میں ہے اور غزہ امن معاہدہ محض ایک ایسا ٹول ہے جسے امریکی و اسرائیلی ایجنڈے میں تکمیل کیلئے منافقت سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
کالم کی طوالت سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا عرض ہے کہ دیگر ممالک توکجا وطن عزیز پاکستان جو سیاسی منافرت و مزاحمت میں گھرا ہوا ہے ، دہشت گرد ی سے دوچار بھارت و افغانستان سے بر سر پیکار ہے حتی کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر سیاسی شورشوں میں اُلجھا ہوا ہے فلسطین اور فلسطینیوں کیلئے کچھ کرسکے گا یا یہ سب محض ایک دھوکہ ہے ؟ ہمارے کالم کا خلاصہ محض اتنا ہے کہ امریکی اسرائیلی اتحاد اور فلسطین دشمنی تو اپنی جگہ روز روشن کی طرح ایک حقیقت ہے، اصل کہانی صدر ٹرمپ اور موجودہ امریکی حکومت کے وہ تارکین وعوام دشمن اقدامات اور قوانین ہیں جو ان کی مقبولیت میں کمی اور مارچ میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں شکست کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ فیصلہ آپ کرسکتے ہیں کہ غزہ امن بورڈ سمیت ٹرمپ کے تمام تماشے سچائی ہیں یا منافقت۔
٭٭٭٭٭

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here