سانحہ گل پلازہ کراچی!!!

0
12
شمیم سیّد
شمیم سیّد

سانحہ گُل پلازہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے اس پر جتنی باتیں ہو رہی ہیں سیاست ہو رہی ہے اس سے ان مظلوموں اور متاثرین کا غم دور نہیں ہوگا، ہزاروں خاندان تباہ ہو گئے، ہر آنکھ اشکبار ہے اس دور حاضر میں اتنا لکھا اور بولا جا رہا ہے کہ بعض دفعہ کہی ہوئی باتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ ہمارا ذہن اتنا منُتشر ہو چکا ہے کہ ہمیں صحیح سے تکلیف اور دُکھ کا احساس ہی نہیں ہو پاتا ہے۔ الفاظوں کا قحط سا پڑ جاتا ہے، لوگ مر گئے، موت تو ہر شخص اور ہر ذی روح کو آنی ہے لیکن حادثاتی موت سانحاتی موت اس کا شکنجہ بڑا کربناک ہوتا ہے الفاظوں کے ترازو میں تولتے رہیں، بڑے بڑے الفاظ استعمال کرتے رہیں مگر وہ کیفیت بڑی مشکل سے ملتی ہے کہ کسی کے سامنے کسی کا بچہ آگ میں جل رہا ہو کسی بیٹے کے سامنے اس کا باپ، بھائی، بہن جل رہی ہو، وہ منظر کتنا دردناک ہوتا ہے اور وہ کھڑا ہو کر دیکھ رہا ہو مال و دولت، پیسہ بزنس، گل پلازہ میں بڑا امپورٹڈ سامان ملتا تھا، بدترین موت ڈوب کر مر جانے اور آگ میں جل جانے سے ہوتی ہے درجہ تو اسے شہادت کا ملتا ہے لیکن ہر لمحہ اسے یہی امید رہتی ہے کہ شاید کوئی مدد کو آجائے مگر اس کی امید ہی رہتی ہے اگر وقت پر امداد مل جاتی تو شاید کچھ جانیں بچ جاتیں۔ ہزاروں لوگوں کی روزی لگی ہوئی تھی اب طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں، ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالا جا رہا ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمے چل رہے ہیں، سب زبانی جمع خرچ ہو رہا ہے کہ آگ لگائی گئی ہے، یہ پگڑی پر دکانیں تھیں اب اس کی جگہ بڑا پلازہ بنے گا اور وہ پلازہ ہماری موجودہ صوبائی حکومت کے کسی بڑے شخص کی ملکیت ہوگا، ان بے سہارا لوگوں کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا اگر کوئی سوچ رہا ہے تو وہ ہمارا وہ پاکستانی جو دُور دراز کے ملکوں میں بیٹھا ہوا ہے جس طرح فائر بریگیڈ کا آفیسر ہلاک ہوا ہے اپنا فرض نبھاتے ہوئے ہمارے ہیوسٹن کے معروف بزنس مین علی شیخانی نے فوری طور پر ایک کروڑ روپیہ اس کی فیملی کو بھجوا دیا ہے جبکہ ہماری حکومت تو اعلان ہی کر رہی ہے اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ حاملہ عورت جل گئی، بچے جل گئے، رات دس بجے گیٹ بند کر دیئے گئے اور ساڑھے دس بجے بچے ماچس سے کھیل رہے تھے اور ایک پھولوں کی دکان میں آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا یہ کیسا سانحۂ ہے اس کے پیچھے کون سے عوامل ہو سکتے ہیں، آپ پرانڈیا حملہ کرتا ہے، اس کے چھ جہاز چند منٹوں میں گرا دیتے ہیں، اپنے ملک کا گُل پلازہ جل گیا اور آپ اس کی آگ نہیں بھجا سکتے کیا معیار ہے آپ کی ان اپنے لوگوں کی جانیں بچانے کا، ایسے ملک پر جو اپنے گھروں کی حفاظت نہ کر سکے اپنے لوگوں کے دکھ درد کو نہ سمجھ سکے آپ کروڑوں ڈالر اپنی شادیوں پر خرچ کر دیتے ہیں لیکن آگ بجھانے کیلئے آپ کے پاس مشینری نہیں ہے پانی نہیں ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے پھر ٹینکر منگائے جاتے ہیں اگر یہی حادثہ بلاول ہائوس، گورنر ہائوس اور یا اور کسی جگہ پر ہوتا تو پورے پاکستان سے ہیلی کاپٹرز آجاتے اور اس آگ پر قابو پا لیتے مگر یہ تو کراچی ہے جس کو تباہ کیا جا رہا ہے، چاہے وہ پیپلزپارٹی ہو چاہے ایم کیو ایم ہو سب نے ہی کراچی کو نقصان پہنچایا ہے اور اپنی جیبیں بھری ہیں روڈ ٹوٹے ہوئے، گٹر کُھلے ہوئے ہیں لوگ گٹروں میں گر کر مر رہے ہیں لیکن گٹروں پر ڈھکن تک نہیں لگائے گئے ۔ 17 سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے سندھ میں انہوں نے کیا کیا کراچی کیلئے اپنے سے پہلے والوں پر الزام لگا کر انہوں نے کیا کیا جو ہم کرتے۔ اللہ تعالیٰ بھی تو ایسے لوگوں کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور یہ لوگ اسی خوش فہمی میں رہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے لیکن اس کی لاٹھی بے آواز ہے ایک نہ ایک دن ان ظالموں کی رسی ضرور کھینچے گا، اسی سلسلے میں ہیوسٹن میں ایک تعزیتی جلسہ کا اہتمام کیا گیا، دعائیہ تقریب پی اے جی ایچ، فرینڈز آف کراچی اور جامعہ کراچی المنائی ایسوسی ایشن کے تعاون سے جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ پی اے جی ایچ کے جنرل سیکرٹری عامر عسکری نے اپنی جذباتی تقریر میں مطالبہ کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خط لکھیں کہ وہ کراچی کے حالات پر ایکشن لیں اور کراچی کو تباہی سے بچائیں۔ سابق وفاقی وزیر شمیم صدیقی نے کہا کہ شہادتوں کی تعداد زیادہ ہونے کی خبریں ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ آئندہ اس طرح کے حادثات نہ ہوں۔ سینیٹر و سابق وزیر بابر خان غوری نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ سانحۂ گُل پلازہ کی تحقیقات کیلئے غیر جانبدار کمیشن مقرر کیا جائے تاکہ غفلت اور نا اہلی کے مرتکب افراد کا تعین کیا جا سکے، انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کی فوری بحالی کے اقدامات کئے جائیں اور متاثرین کو کاروبار جاری رکھنے کیلئے ایکسپو سینٹر کراچی میں جگہیں الاٹ کی جائیں جس پر وہاں موجود لوگوں نے تائید کی۔ آخر میں شہداء کے ایصال و ثواب کیلئے معروف ہوسٹ ریحان احمد نے فاتحہ خوانی اور دعا کروائی اس پروگرام میں شہر ہیوسٹن کے تمام لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس کامیاب پروگرام پر منتظمین کو مبارکباد پیش کیں خاص طور پر بابر خان غوری کو جو ہمیشہ کمیونٹی کو جوڑنے میں لگے رہتے ہیں۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here