برف ہو یا طوفان !!!

0
12
رعنا کوثر
رعنا کوثر

برف ہو یا طوفان !!!

نیویارک ایک ایسا شہر ہے خاص طور سے نیویارک سٹی ایک ایسی دلچسپ جگہ ہے جہاں ہر موسم کی اپنی بہار ہے اور جو کبھی بھی سویا ہوا اثر نہیں لگتا ہے بلکہ ایسا شہر لگتا ہے جہاں زندگی اپنی تمام تر ہلچل سے رواں دواں رہتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کے ہم سب جو نیویارک میں رہتے ہیں ایک بہت بڑے برف کے طوفان سے گزرے اتوار کو پورا دن برف گرتی رہی اور پوری رات برفباری کا زور رہا۔ لوگ صبح شام اپنے گھر کے سامنے کی برف صاف کرتے رہے تاکے پیر کی صبح کام پر جاسکیں اور پیر کی صبح برف پر قدم جماتے ہوئے بے شمار لوگ اپنے کاموں پر جارہے تھے۔ وقت پر پہنچنا چونکہ ہر جگہ کی ایک روایت ہے تو سب وقت پر ہی اپنے کام پر پہنچتے ہیں ،چاہے سردی، گرمی ہو یا برف کا طوفان دوکاندار دوکانیں کھولنے کے لئے بے چین تھے کہ ان کو بھی گاہکوں کی ضرورت تھی، وہ گاہک جو کام پر جاتے ہوئے صبح کا ناشتہ لیتے ہیں، کافی پیتے ہیں شاید ملکوں کی ترقی کا یہی سبب ہوتا ہے کہ وقت پر کام ہو یا کام پر وقت پر پہنچا جائے۔ کہتے ہیں ہر دس سال میں نیویارک میں بڑا برفانی طوفان آتا ہے باقی سالوں میں برف تو گرتی ہے مگر اتنی زیادہ نہیں خیر تو نیویارک سٹی میں برسہا برس نوکری کرنے کے دوران ہم نے بھی ایسے برفانی طوفان میں بے شمر دفعہ باہر سڑکوں پر نکل کر ٹرین اور بس لے کر اپنی جاب پر جانے کی کوشش کی کبھی کامیاب ہوئے اور کبھی نہیں،جب میں نے امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو جنوری کا مہینہ شروع ہوا تھا جنوری کے آخری ہفتے میں ایک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں جاب مل گئی پہلا دن تھا جاب کا کے زبردست برف کا طوفان آگیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو کچھ سوچ سمجھ کر نکلتے مگر امریکہ کی جاب اور پہلا دن جوش میں نکل گئے جب مین ہیٹن پہنچے اب آفس ہی نہ ملے ہر ایک سے پوچھ رہے ہیں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے مگر کوئی نہیں بتلا رہا پتہ چلا کے بلڈنگ نمبر پوچھنا چاہیے۔خیر کسی نہ کسی طرح جاب پر پہنچ گئے پہلا دن نو بجے کی جگہ جس بجے پہنچے۔ مگر وہاں پہنچ کر پتہ چلا کے برف کے طوفان کی وجہ سے لوگ پہنچ نہیں پائے مگر ہم تو پہنچ چکے تھے سپروائزر بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد 1996 کا طوفان تھا اس وقت ہم MTA میں جاب کرتے تھے یہ بسیں اور ٹرین نیویارک میں چلانے کا ادارہ ہے چوبیس گھنٹے بس اور ٹرین چلتی ہیں اس لئے ہم جس کلینک میں کام کرتے تھے وہ بھی چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا ہم رات کی شفٹ میں کام کرتے تھے یقین کریں اتنے بڑے برفانی طوفان میں ہم اپنی جاب پر پہنچ گئے کیونکہ بسیں چل رہی تھیں لہذا ہمارا ڈیپارٹمنٹ بند ہونے سے بچ گیا کیونکہ وہاں ان دنوں ہم رات میں اکیلے ہی کام کرتے تھے۔ اس کے بعد بھی طوفان آتے رہے اگر بسیں اور ٹرین چل رہی ہوتی تو ہم پہنچ ہی جاتے ایسے بے شمار واقعات ہیں جو میں اپنے بچوں کو سنا کر ہمت دلاتی رہتی ہوں کیونکہ آپ تو برف باری کم ہی ہوتی ہے ایک زمانہ تھا جب بہت زیادہ برف باری ہوتی تھی اور ہم تو آئے بھی گرم ملک سے تھے۔ نہ اتنا کام کرنے کی عادت تھی نہ اتنا سر دو گرم سہنے کی عادت تھی بفضل تعالیٰ تیس سال ڈٹ کر جاب کی بہترین ریکارڈ قائم کیا اور اسی ہمت کے صلے میں آج آرام سے اپنے گھر میں وقت گزارا رہے ہیں یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو تو اور بھی ہمت دکھانی چاہیے کیونکہ اس ترقی یافتہ ملک میں ہر کوئی ہمت سے کام لیتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here