وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری نے لمز یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ایشیا انرجی سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ پاکستان کا پاور سیکٹر تیزی سے ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست شکل اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق 2035 تک ملک کی 90 فیصد بجلی کلین اینڈ گرین توانائی سے حاصل کی جائے گی، جبکہ شمسی انقلاب نہ صرف پاکستان میں جڑ پکڑ چکا ہے بلکہ دنیا کے لیے ایک مثال بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عوام نے اپنے گھروں، دکانوں اور صنعتی یونٹس میں سولر ٹیکنالوجی کو جس رفتار سے اپنایا ہے، وہ پاکستان کی توانائی تاریخ کا غیر معمولی موڑ ہے گو کہ 50 گیگا واٹ سولر پینلز کی تنصیب کا دعوی مبالغہ آمیز محسوس ہوتا ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں لاکھوں صارفین نے بجلی کے بڑھتے نرخوں اور حکومت کی ناقص پالیسیوں سے تنگ آ کر سولر نظام کو اختیار کیا۔ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کو قومی گرڈ میں واپس بیچنے کا موقع ملا تو اس رفتار میں مزید اضافہ ہوا، یوں نجی شعبے کی شرکت نے توانائی کے متبادل ذرائع کی نمو میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس منظرنامے کا تاریک پہلو وہ حقائق ہیں جنہیں اویس لغاریکے خطاب میں جگہ نہیں ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصہ بجلی کی کمی، بدانتظامی اور غیر متوازن توانائی پالیسیوں کا شکار رہا ہے۔ نوے اور دو ہزار کی دہائی کے آخر میں بجلی کے بحران نے شدت اختیار کی تو مختلف حکومتوں نے نجی پاور پلانٹس (IPPs) کے ساتھ ایسے معاہدے کیے جنہوں نے ملکی معیشت کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیا۔ ٹیک اور پے کی بنیاد پر کیے جانے والے ان معاہدوں نے قومی خزانے پر ایسے بوجھ ڈالے جو آج تک عوام اپنے بجلی بلوں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ بجلی بنانے کے کارخانوں کو چاہے بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، ہر صورت ادائیگی کی ضمانت دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لائن لاسز،گردشی قرضے اور کیپسٹی پیمنٹس نے پاور سیکٹر کو بدترین بحران میں دھکیل دیا۔ گردشی قرضہ آج تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس کے ذمہ داروں کا اب تک نہ کوئی احتساب ہوا، نہ کسی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آئی۔ جب حکومت کی یہ پالیسی ناکام ہوئی اور بجلی بل صارفین کی پہنچ سے باہر ہونے لگے تو عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت گھر گھر سولر پینلز نصب کرنا شروع کیے۔ مگر جیسے ہی یہ سلسلہ تیزی سے بڑھا اور صارفین گرڈ پر انحصار کم کرنے لگے، حکومت کو اپنے ریونیو میں کمی محسوس ہونے لگی۔ اس موقع پر ایک بار پھر اصلاحات کے نام پر ایسے اقدامات سامنے آنے لگے جنہیں عوام نے استحصالی ضابطے قرار دیا۔ نیٹ میٹرنگ کابائی بیک ریٹ کم کرنے کی تجاویز، فیسیں بڑھانے کی کوششیں اور نیٹ میٹرنگ صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی سوچ اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومتکی ترجیحات صارفین کی سہولت کے بجائے اپنے مالی خسارے کے گرد گھومتی ہیں۔ نیٹ میٹرنگ اصولی طور پر ایک غیر معمولی قدم تھا، مگر اس کے نفاذ میں وہ فرق نہیں رکھا گیا جو شدید بجلی چوری والے علاقوں اور ریگولر ادائیگی کرنے والے علاقوں کے درمیان ہونا چاہیے تھا۔ وہ علاقے جہاں بجلی چوری 50 سے 80 فیصد تک ہے، وہاں گرڈ کا نقصان زیادہ ہوتا ہے، جبکہ وہ صارفین جو وقت پر بل ادا کرتے ہیں، بہتر انفراسٹرکچر رکھتے ہیں اور سولر نصب کر کے بجلی گرڈ میں شامل کرتے ہیں، ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو بدترین خسارے والے علاقوں میں روا رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں قوانین کا حسنِ نفاذ ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ اگر مارکیٹ کو چند بڑی کمپنیوں نے گرفت میں لے لیا، اگر نیلامی اور نرخوں کے تعین میں مفادات داخل ہو گئے، اگر سیاسی یا ادارہ جاتی اثر و رسوخ شامل ہو گیا، تو CTBCM بھی ایک اور ایسا تجربہ بن جائے گا جس کے فوائد صارفین تک کبھی نہیں پہنچیں گے۔پاکستان کے توانائی بحران کا المیہ یہی ہے کہ اصلاحات کا ہر نیا سلسلہ خود اصلاحات کا محتاج ہوتا ہے۔ بدعنوانی، ناقص انتظام، غیر مستحکم پالیسی اور سیاسی مداخلت نے پاور سیکٹر کو مسلسل کمزور کیا ہے۔ جو فیصلے سائنسی، تکنیکی اور معاشی بنیادوں پر ہونے چاہئیں، انہیں سیاسی تقرریوں، کمیشنوں کی لالچ اور طاقتور لابیوں کے زیرِ اثر کیا جاتا رہا ہے۔ نتیجتا نہ عوام کو سستی بجلی ملی، نہ ریاست کو مستحکم توانائی نظام نصیب ہوا۔ اس سب کے باوجود، وزیر موصوف کی باتوں میں ایک امید ضرور چھپی ہے۔ اگر واقعی پاور سیکٹر کو ڈیجیٹل، شفاف، صارف دوست اور ماحول دوست بنانا ہے تو حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس بار کیے جانے والے وعدے محض دعوے نہیں بلکہ ایسی پالیسی کا حصہ ہیں جو عوام کے مفاد کو مقدم رکھتی ہے۔ بجلی کے میٹر سے لے کر ٹرانسمشن لائنز تک، قوانین سے لے کر پرائسنگ میکنزم تک ، ہر قدم پر شفافیت اور تکنیکی معیار کو ترجیح دینا ہوگی۔ نیٹ میٹرنگ کے نرخ انصاف پر مبنی ہوں، سولر کو اپنانے والے صارفین کو سزا نہ دی جائے، بجلی چوری والے علاقوں میں ٹارگٹڈ اقدامات کیے جائیں اور آئی پی پیز کے بوجھ کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، ایسے فیصلے کئے جائیںجو طاقتور طبقات کے بجائے عوام، معیشت اور مستقبل کے حق میں ہوں۔
٭٭٭










