نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر فعال، متوازن اور نتیجہ خیز خارجہ پالیسی کی طرف گامزن ہے۔ ایران، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ جیسے اہم علاقائی ممالک کے ساتھ اعلی سطحی روابط نہ صرف سفارتی سطح پر اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن رہے ہیں بلکہ ان کے ذریعے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے نئے در بھی کھلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ وہ سمت ہے جس کی پاکستان کو اس وقت شدید ضرورت ہے، جب معیشت کو استحکام، علاقائی امن کو تقویت اور عالمی سطح پر اعتماد سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ نائب وزیراعظم کی ٹیلی فونک گفتگو میں خطے اور دنیا میں جاری اہم پیش رفت پر سنجیدہ اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بالخصوص جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران سے متعلق قرارداد کے معاملے پر پاکستان کے اصولی موقف نے تہران میں مثبت تاثر پیدا کیا۔ ووٹنگ کے مطالبے اور قرارداد کے خلاف ووٹ دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا شکریہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب بھی مشکل مواقع پر دوست ممالک کے ساتھ کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف باہمی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے بلکہ مستقبل میں اقتصادی اور تزویراتی تعاون کے امکانات کو بھی وسعت دیتا ہے۔ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات محض جغرافیائی ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ توانائی، تجارت، سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام جیسے اہم شعبوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سفارتی خیرسگالی کو عملی منصوبوں میں ڈھالا جائے، خصوصا ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن، سرحدی منڈیوں (بارڈر مارکیٹس) اور دوطرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے جیسے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔ سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت کی جانب سے بھی خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون کے فروغ پر زور دینا اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی تسلسل میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ اعلی سطحی روابط خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ دبئی میں نائب وزیراعظم کی ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف فنانس کے چیئرمین اور ممتاز کاروباری رہنما جاسم محمد بو عطابہ الزعابی سے ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو محض سیاسی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اقتصادی شراکت داری میں بدلنا چاہتا ہے۔ ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے تاریخی، برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور تعاون دوطرفہ شراکت داری کی ایک مضبوط بنیاد ہیں، جن پر نئی اقتصادی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔اس ملاقات میں پاک۔یو اے ای تجارت اور اقتصادی تعاون کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان میں یو اے ای کی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ خاص طور پر اتصالات کی پاکستان میں جاری سرمایہ کاری، بالخصوص پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں اس کے شیئرز کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ٹیلی کام، ڈیجیٹل معیشت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اعتماد دینا چاہتا ہے۔ اگر ان روابط کو پالیسی کے تسلسل اور شفاف طرزِ حکمرانی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ سرمایہ کاری روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کے ساتھ عسکری قیادت بھی معاشی سفارت کاری کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں عسکری قیادت کی جانب سے علاقائی امن، سرمایہ کاری کے تحفظ اور استحکام پر زور نے بیرونی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اب صرف سکیورٹی کے بیانیے تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشی ترقی کو قومی سلامتی کا لازمی جز سمجھتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ ان سفارتی رابطوں اور ملاقاتوں کو محض بیانات اور اعلامیوں تک محدود نہ رہنے دیا جائے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے کئی اہم معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دیکھی ہیں جو عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔ اس بار ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران، یو اے ای اور ترکیہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو واضح ٹائم لائنز، قابلِ عمل منصوبوں اور ادارہ جاتی فالو اپ کے ذریعے نتیجہ خیز بنایا جائے۔ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، پالیسیوں کا تسلسل، قانونی تحفظ اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کا خاتمہ وہ عوامل ہیں جن کے بغیر کوئی بھی سفارتی کوشش ثمر آور نہیں ہو سکتی۔ علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو ایران، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کو ایک متوازن سفارتی مقام فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے اہم شراکت دار ہیں بلکہ مسلم دنیا میں پاکستان کے سیاسی وزن کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب عالمی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علاقائی تعاون کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنائے۔مختصرا، نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں درست سمت میں قدم ہیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشیں اگر ٹھوس معاشی منصوبوں میں ڈھل جائیں تو پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک ذمہ دار، فعال اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر اپنا مقام بھی مستحکم کر سکتا ہے۔ اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہو گی جب سفارت کاری کے ثمرات عام آدمی کی زندگی میں بہتری کی صورت میں نظر آئیں۔
٭٭٭










