بلاشبہ عہد جدید میں ہر ریاست کا آئین معاہدہ عمران کہلاتا ہے جو کس ملک کے عوام اکائیوں، صوبوں اور ریاستوں کے درمیان طے پاتا ہے کہ اس میں شامل عوام اور ریاستوں کے کیا گیا حقوق اور اختیارات ہوتے ہیں جو عوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے جن کی بدولت ریاست یونین یا فیڈریشن کا حصہ بنی ہے۔ جس میں بعض حقوق بنیادی اور اصولی ہوتے ہیں جن کو ختم کرنا آئین کو توڑنے کے مترادف کہلاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں کے پاس آئین نہیں ہوتے ہیں ان کی ریاستیں توڑ پھوڑ کی شکار رہتی ہیں جس کا زیادہ تر استعمال سلطنتوں میں رہا ہے جب وہ کبھی پڑھتی اور گٹھتی نظر آتی رہی ہیں یا پھر بعض طاقتیں توسیع پسندی کی خاطر آئین سے محروم ہوتی ہیں جو ان کی توسیع پسندی کے آڑے آتا ہے تاہم امریکی آئین کو بنانے والی پہلی 13 ریاستیں تھیں جو اب بڑھ کر پچاس ہوچکی ہیں جو نہ جانے کل کتنی ریاستوں کا اضافہ ہوگا۔ جس کے لئے آئین میں ترمیم کر لی جائے گی کہ اب امریکہ کی کتنی ریاستیں یونین کا حصہ ہیں امریکی آئین کے سات آرٹیکل اور 27 ترامیم ہیں جن کو گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں مختلف زمانوں اور وقتوں میں اپنایا گیا ہے امریکی آئین کے بنیادی اصول کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے جس میں اٰئین اور موجودہ نظام حکومت کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے جس کے لیے 2/3 ریاستوں کے ووٹنگ چاہیے جو کانگریس کی بجائے امریکی شہری فیصلہ کریں گے کہ ہمیں یہ آئین چاہیے یا نہیں امریکی آئین میں بعض آرٹیکل اور ترمیم میں شہریوں کے حقوق درج ہیں جن کے بغیر کسی قسم کا ایکشن قابل قبول نہیں کہلاتا ہے جس میں پہلے بل آف رائٹس کی دس ترمیم کہلاتی ہیں جس میں شہریوں کو پہلی ترمیم میں تحریر وتقریر، اجتماع بولنے لکھنے پڑھنے کے حقوق شامل ہیں یا پھر چوتھی ترمیم میں بنا وارنٹ گرفتاری پانچویں ترمیم میں گرفتاری کے بعد ڈیوپروسس آف لاء چھٹی ترمیم میں جیوری گواہی اور دلائل دینے کا حق دیا گیا۔ دسویں ترمیم ریاست کے پاس پورے ریاستی اختیارات شامل ہیں جو پولیس کے اختیارات کہلاتے ہیں جس میں ریاستی انتظامیہ صحت تعلیم شادی طلاق وغیرہ شامل ہیں گیارہویں ترمیم میں فیڈرل اور ریاستی شہریوں اور افسران کو عدالتی کارروائیوں کے بارے میں ہیں کہ دو ریاستوں دو مختلف ریاستوں کے شہریوں یا دو مختلف ریاستوں کے افسران اور شہریوں کے درمیان مقدمات میں عدالتوں کے اختیارات پائے جاتے ہیں اور تیرہویں ترمیم میں امریکی غلاموں کی آزادی دی گئی ہے جو دوبارہ قائم نہیں ہوسکتی ہے۔ چودھویں ترمیم میں امریکہ میں مختلف لوگوں کی شریت کا حق دیا گیا ہے۔ جس میں سیاہ فام افریقین نیٹو امریکن پیدائشی بچوں اور نیچرائز شہریوں کی شہریت دی گئی ہے پندرہویں ترمیم میں مذکورہ بالا تمام نومولود اور مستقبل کے شہریوں کو رائٹ آف ووٹ دیاگیا ہے۔ جو پہلے میسر نہ تھا کہ جب امریکہ میں سیاہ فام ذاتی پراپرٹی کہلاتی تھی نیٹو امریکن خانہ بدوش تھے آباد کار صرف کام کرنے والا طبقہ تھا پیدائشی بچوں کے پاس حق رائے دہندگی نہ تھی جو سب پندرہویں ترمیم کے ذریعے حقوق دیئے گئے جو آج سب خطرے میں ہیں کہ جس میں موجودہ حکومت امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے اور نیچرائز لوگوں کے خلاف قانون سازی یا ایگزیکٹو آرڈروں کے ذریعے ختم کیا جارہا ہے۔ کہ اب جو بچہ کسی نان امیگرینٹس کے ہاں پیدا ہوگا وہ شرعی امریکن شہری نہیں کہلائے گا۔ یا بیوی شوہر ایک دوسرے کو اسپانسر نہیں کر پائیں گے چونکہ یہ تمام صدارتی احکامات یا قانون سازی آئین کی خلاف ورزی نظر آرہی ہے جس کو امریکی عدالتیں مسلسل رد کر رہی ہیں تاکہ آئین بچ جائے اگر یہ سلسل جاری رہا تو امریکی آئین تو پھوڑ کر شکار ہو جائے گا جس سے امریکی یونین کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](http://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)











