چور اور محافظ !!!

0
9
شبیر گُل

پاکستان بنے ستر برس بیت چکے ۔ جون جون وقت زرتا یا، غربت، بے روزار بڑھتی رہی ۔ دبشت رد نے قوم واپنے جال میں جکڑ لیا۔ قوم کی گردن مفادات کے بھوکے بھیڑیئے کے شکنجے میں ہے۔ مہنگے بلوں ،مہنگی بجلی اور ٹیکسوں کی بھر مار نے عوام کی سانسیں دبا رکھی ھیں۔ ڈیموکریٹک سوسائٹی میں ان حالات ا مقابلہ ووٹوں کی طاقت سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ مگر وہاں اسٹبلشمنٹ ایک اژدھے کی صورت میں بیٹھی ھے جو پرانے ڈاکوں اور لٹیروں کو با بار نسل درد نسل مسلط رت ہے۔ یہ مافیا خونخوار جانور طرح خون چوس رہی ہے۔ قوم بار بار بھول جاتی ہے۔ ھمارا المیہ رہا ھے کہ چور اور مخافظ عوام کے خلاف ایکا کرلیتے ھیں ۔ ھم آوے ای آوے اور جاوے ای جاے کے چکر میں دشمن پہچان نہیں پائے۔ اس وطن کو ھم نے خون کاغسل دیکر حاصل کیا تھا ۔بزرگ اندھیروں کے سیاہ بادل چھٹنے کی امید و آس لیکر اس ملک میں آئے ۔ جو مایوس ھو کر اپنے رب کے ہاں پہنچ گئے ۔ لیکن ھم آج بھی وہی کھڑے ھیں ۔ ہر الیکشن میں امید سحر کی منتظر قوم کو ہمیشہ فارم پنتالیس اور سنتالیس کی گھمن گھیریوں میں الجھا دیا جاتا ھے۔عوامی مینڈٹ چرا کر قائداعظم اور بانیان پاکستان کی قربانیوں پر کالک مل دی جاتی ھے۔ چودہ اگست اور تیس مارچ کو سبز پرچم تلے منافق لیڈر اور کرپٹ جرنیل قومی ترانہ گا کا بزرگوں کی روح کو تڑپاتے ھیں۔ لیکن عوام بددعائیں بھی دیتی ھے اور ووٹ بھی انہی بدکاروں کو دیتی ھے۔ بالکل امت مسلمہ کی لیڈرشپ کیطرح ۔یعنی اسرائیل کو بددعائیں بھی دیتے ھیں اور ابراہیم اکارڈ پر دستخط بھی کرتے ھیں ۔ فلسطینیوں سے ہمدردی کرتے ھیں قراردادیں پاس کرتے ھیں ۔ لیکن انکی پٹائی کے لئے افواج بھجنے کا عندیہ بھی دیتے ھیں۔ گزشتہ روز کراچی میں اندوہناک آگ سے دو سے زیادہ لوگ کوئلہ بن گئے ۔ اتنے بڑے سانخہ پر نہ تو وزیراعظم ، اور نہ ہی فیلڈ مارشل جنرل وزیراعظم محترم صدر پاکستان جناب خافظ عاصم منیر صاحب کو توفیق ھوئی دکھی لواحقین کو پرسہ دینے کراچی آتے ۔ عوام جل کر مریں یا گڑ میں گر کر۔ یہ سالے صرف نعرے مارنے کے لئے ھیں ۔ ووٹ دینے کے لئے ھیں ۔ یہ سوئی ھوئی قوم ہے۔ جس کی تقدیر کرپٹ جرنیل اور سیاسی گماشتے لکھتے ھیں۔ گل پلازہ میں بارہ سو دوکانیں تھیں جو جل کر خاکستر ھوہیں ۔چوبیس گھنٹے آگ لگی رہی۔ مائیں ، بہنیں اور بچے پلازہ کے باہر چیختیں رہیں۔ انتہائی دردناک ،اذیت ناک اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔تین کڑوڑ سے زائد کی آبادی والے شہر میں آگ بجانے کے لئے پانی نہیں۔ حکومتی نااہلی سے آئے روز آگ لگنے کے واقعات رونما ھوتے ھیں ۔ ہر بار فائر برگیڈ دیر سے پہنچتے ھیں ۔ انہیں آگ بجھانے کے ایکوپمنٹ نہیں ۔ سینکڑوں لوگ جلتے ھیں جھوٹی کمیٹیاں بنتی ھیں ۔ جھوٹے امدادی چیک جاری ھوتے ھیں۔ جھوٹے وعدے کئے جاتے ھیں۔ عوام بے یارومددگار ۔ بزنس کمیونٹی بے بس ۔ جرنیل بے حس ۔سیاسی بدمعاش اور غنڈے جرنیل تماشبین بنے بیٹھے ھیں۔ آہیں ،جلتی لاشیں ،ماں، بہنوں اور بچوں کی آہیں ان پر کوئی اثر نہیں کرتیں۔ یاد رکھیں ۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت ھے ۔اسکی لاٹھی بے آواز ہے۔ کراچی کے گل پلازہ میں لگی آگ نے سندھ پر مسلط گنگسٹرز کی کرپشن، بے حسی اور بے شرمی عیاں کردی۔ وزیراعلی مراد علی شاہ کا کہنا ھے کہ ھم اپنی غلطیوں کا جائزہ لینگے۔عوام پوچھتے ھیں کہ یہ جائزہ کب ھوگا۔ ایم کیوایم کے دہشتگرد اس شہر پر حکمران رہے اور اب بھی ووٹوں کے بغیر اسمبلیوں میں موجود ۔ مصطفے کمال میڈیا پر کس چیز کا رونا رو رہے ھیں ۔ اگر غیرت ھو تو استعفی دیکر عوام میں جائیں۔ ایم کیو ایم کیشپنگ کے وزیر بابر غوری کی معیت میں انیس ہزار کنٹینرز اسلحہ غائب ھوا ۔ کیا کوئی بابر غوری کو امریکہ سے اٹھا کر لائے گا۔جو امریکہ میں کئی ملینز ڈالرز کی انوسٹمنٹ کرچکے ھیں ۔لنگرے، لولے، کن کٹے بھتہ خور ایکبار پھر شہر کے امن و سکون کو برباد کرنے کے درپے ھیں۔ کراچی میں بھتہ خوروں اور ناہل اور قاتل مافیا ایکبار پھر سرگرم ھوچکی ھے جماعت اسلامی کے شہری مسائل پر آواز اٹھانے کے خلاف وال چاکنگ کی جارہی ھے۔ تاکہ عوام کی توجہ انکے کالے کرتوں سے ہٹائی جاسکے ۔ گل پلازہ میں تین سو دوکانیں تھیں ۔کہا جارہا ھے کہ اسکا مالک الطاف حسین کا گن مین ھے۔ آپ اندازہ کریں کے یہ کتنے کھرب کی لوٹ مال میں ملوث رہے۔ کراچی کی تباہی و بربادی میں جتنا پیپلز پارٹی ملوث ھے اس سے کہیں زیادہ ایم کیو ایم ملوث رہی ۔ آج ایم کیو ایم کس چیز کا رونا رو رہی ھے۔ کراچی اور سندھ پر پیپلز پارٹی کے گینگسٹرز قابض ھیں ۔ان گینگسٹرز نے بیوروکریسی میں اپنے گینگسٹرز بھرتی کر لئے ھیں جنہوں نے ہر ادارے پر سندھی تعینات کررکھے ھیں ۔ پیپلز پارٹی کی ایک فوج ظفر موج لوٹ مار میں مصروف ھے ۔ہر ادارے میں اجڈ اور جاہل ملک لوٹنے میں مصروف ھیں۔ کراچی میں ہر روز لاشیں ۔ ٹیلی فونز ، موٹرسائیکل اور گاڑیاں چھننے کے سینکڑوں واقعات روازانہ رونما ھوتے ھیں ۔ کراچی کے عوام کی بوری بند لاشوں اور بھتہ خوری سے جان چھوٹی ہی تھی کہ پیپلز پارٹی کے بھتہ خوروں نے انکی جگہ سنھبال لی۔ چہرے بدل گئے۔ مگر عوامی مسائل جوں کے توں۔ اب پیپلز پارٹی کے بدمعاشی جاری ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے پالتو بے لگام ۔ اسٹبلشمنٹ اپنے دم ہلانے والے پالتوں کے جرم میں برابر شریک ۔ ایم کیو ایم کے گینگسٹرز جنہوں نے نہ کوئی کھیل نا میدان چھوڑا نہ کوئی خالی پلاٹ۔ آج بھی حکمرانوں کی حصہ دار۔ اور جعلی رونا دھونا۔ ھم پاکستان میں ھوں یا فلسطین میں ۔ کشمیر میں ھوں یا بلوچستان میں انٹرنیشنل گینگسٹرز کے تسمے باندھنے کا سلیقہ جانتے ھیں ۔ کبھی سی آئی اے کی نوکری اور کبھی یہودیوں کی چاکری ۔ انٹرنیشنل گینگسٹرز نیتن یاہو خلیجی ممالک کے لئے خطرہ ہے۔ ان گینگسٹرز نے دنیا کا امن خطرہ میں ڈال رکھا ہے۔ ڈانلڈ ٹرمپ جو ایک طرف امن کا داعی ھونے کا دعوے دار ، آٹھ جنگیں بند کرانے کا کریڈٹ لیتا ھے ۔اور دوسری طرف ایران پر، یمن پر حملے ۔ وینزویلا پر قبضہ ، صدر کا اغوا۔اور اب گرین لینڈ پر زبردستی قبضہ ۔ پچہتر ممالک کے ویزوں کی بندش۔ ٹرمپ کو طاقت کے ذعم نے اندھا کردیا ھے۔ مہنگائی اوربیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ کسان پس کررہ گیا ہے۔ ٹرمپ کی غیر پاپولر پالیسیز کی وجہ سے مڈٹرم الیکشن میں انکا پتہ صاف ھو سکتا ھے۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں خاصی کمی ھوئی ھے۔ ریپبلکنز مڈ ٹرم میں شکست کھا سکتے ھیں ۔
ٹرمپ کی مڈ ٹرم میں شکست پر ڈیپ اسٹیٹس سے انکے حامیوں کے پرتشدد مظاہرے شروع ھوسکتے ھیں ۔
یہی حال بھارت میں ہے۔ بھارتی قیادت نریند مودی اور اسکی پارٹی گنگسٹرز نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پڑوسی ممالک بھارتی رویوں سے تنگ ھیں ۔ بھارت سیون سسرٹرز ریاستوں میں موجودہ بھارتی حکومت کے خلاف مزاحمت کے کئی واقعات رونما ھوچکے ھیں ۔ خصوصا منی پور، جھار کھنڈ میں بغاوت میں شدت اختیار کر چکی ھے ۔ ہماری افواج کو بھی سیاست کی لت لگ چکی ھے۔ ہر ادارے میں ایک فوجی افسر بیٹھا ھے۔اب ھوجاتے رشوت خوروں کی جگہ بغیر وردی ڈاکو بیٹھے ھیں ۔ انکو کوئی روک ٹوک ھے اور نہ کوئی پوچھنے والا۔ چور اور مخافظ مل چکے ھیں۔ جنہوں نے معاشرے کو پیچھے دھکیل دیا ھے۔ گزشتہ روز چین کے آرمی چیف کو سی آئی اے کو ایٹمی راز بیچنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا۔
پاکستان کی موجودہ رجیم اور فوجی قیادت ٹرمپ کے آگے بچھے چلے مارے ھیں ۔ ٹرمپ کو خود بھی اندازہ نہیں ھو پارہا کہ پاکستانی قیادت ٹرمپ کے بوٹ چاٹنے میں اتنی تیزی کیوں دکھا رہی ھے ۔ ٹرمپ کے آگے مرے جاتے ہیں ۔ بچھے جاتے ھیں ۔اخلاقی گراٹ میں ھمارے حکمرانوں کا کوئی بھی جواب نہیں ۔ کہ ٹرمپ کی اتنی خوبیاں بیان کرتے ھیں ۔ جو اسے خود بھی معلوم نہیں ۔ وہ خود بھی حیران ھوتا ھوگا کہ میرے اندر اتنی خوبیاں ھیں اور میں کس کمال کا آدمی ھوں مجھے اسکا اندازہ کیوں نہیں ھوسکا۔ جو شہباز شریف بیان کرتا ھے۔ان چاپلوس ، عوام دشمن حکمرانوں سے جان چھڑانے کے لئے سوئی ھوئی قوم کو جاگنا ھوگا ۔
ن لیگ ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف ، جمیعت علما اسلام ، ایم کیو ایم مفادات کی جنگ لڑ رہے بے۔ ان میں ایک جماعت اور ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جو عوام کے حقوق کی بات کرتا ھو۔ عوامی مسائل کو اجاگر کرتا ھو ۔ ایسے حل جتنے کی صلاحیت رکھتا ھو۔ ان سب کو قوم نے آزمایا اور آزما رہے ھیں ۔ انہوں نے عوام کو مایوسی ۔ منفی طرز سیاست کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ عوام کو مفادات کے پجاری طبقہ سے جان چھڑانی چاہئے ۔ جنہوں نے ستر سال قوم کو غربت ،مہنگائی ،دکھ، تکلیف اور مشکلات کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔
پاکستان میں عوام کی آواز اور قیادت صرف حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعتِ اسلامی پاکستان ھیں ۔ جو اصول، دیانت اور مظلوموں کی حمایت کی علامت ہیں۔ ان کی قیادت میں حق کی آواز بلند ہو رہی ہے اور قوم کو ایک باوقار، منصفانہ اور اسلامی پاکستان کی امید نظر آتی ہے۔ اللہ تعالی اس جدوجہد کو کامیاب فرمائے۔ آمین
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here