تھوڑی دیر کے لئے سینما کو متحرک احتجاج کرکے دیکھیں اور اداکاروں کو اس تحریک کا کردار تو شاید بات سمجھ میں نہ آئے اور ہم پاکستانی یہ یہی کہیں گے کہ سینما ،سینما ہے، تحریک کا اس سے کیا تعلق اور یہ اداکار کیسے کارکن(ACTIVIST) ہوسکتے ہیں وہ تو پردے پر آتے ہیں۔ ہنساتے ہیں یا رُلاتے ہیں، ٹھیک کہا کہ ہم پاکستانی سوچ سکتے ہیں کیوں نہ سوچیں کہ پچھلے کئی سالوں سے میڈیا پر جو ڈرامہ سیریل دکھائے جارہے ہیں وہ اس قدر واہیات ہیں کہ میاں بیوی بھی ساتھ مل کر نہیں دیکھ سکتے حالیہ سیریل معّمہ اس کی تازہ مثال ہے اور اس کا کردار صبا قمر ایک واہیات کردار کی عکاسی کرتا ہے بس یہ لکھنا باقی ہے ”بالغان کے لئے اگر اضافہ کردیں کہ بگڑے ہوئے بالغان کے لئے تو یہ مناسب رہے گا اور اب واہیات لوگ اس پر لکھتے ہیں جو معاشرے میں ہو رہا ہے وہ ہی تو دکھایا گیا ہے جی یہ سچ ہے لیکن یہ کچھ معاشرے میں بہت پہلے سے تھا لیکن سینما اور ٹی وی پر نہیں دکھایا جاتا ہے ،بتا چکے ہیں، سنسر بورڈ تھا اور ایسا کہ اگر ناچتے وقت ہیروئن، ہیرو سے لگ جائے تو کٹ کیا جاتا تھا، اور بہت پہلے 1944 کی بات ہے کہ ایم صادق نے فلم ”رتن” بنائی تھی جو سپرہٹ ثابت ہوئی تھی ،اس میں سورن تھا اور کرن دیوان تھے۔ بات صرف اتنی تھی کہ پہلی بار سینما کے پردے پر ایک شادی شدہ عورت کو اپنی پرانی محبت میں روتے اور مرتے دکھایا گیا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سی لڑکیاں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ گھر سے بھاگ گئیں۔ دیوداس میں ذرا مختلف تھا کہ لڑکی گھر سے نہیں بھاگتی اور ہیرو اس کے لئے جان دے دیتا ہے نتیجہ میں ہم نے سنا کہ کئی لوگوں نے اپنی ہیروئن سے شادی نہ ہونے کے نتیجہ میں خودکشی کرلی اس زمانے میں سینما ہی واحد تفریح تھا ،ساتھ ہی سینما کے ذریعے ہی معاشرہ کو بھی دکھایا جاتا تھا ،وہ ایک شریف معاشرہ تھا جہاں غربت تو تھی لیکن لوفر پن نہ تھا۔ محبوب خان، بمل رائے، گرودت اور راج کپور نے اپنی فلموں، اندانہ دیوداس، پیاسا اور آوارہ کے ذریعے دیکھنے والوں کو شعور دیا تھا اور معاشرے کی برائی کو اُجاگر کیا تھا ،یہ ہی انداز ہالی ووڈ کا بھی تھا۔ جو1980 تک رہا کہ وہ معاشرے تاریخ اور جنگ کے بارے میں سبق بھی دیتی تھیں۔ 1972 میں فلم DEER HUNTER دیکھی تو رونا آگیا ، یہ فلم امریکی سیاست دانوں کے منہ پر طمانچہ تھا پھر فلم ”SOPHIE,S CHOICE ” دیکھ کر معلوم ہوا کہ ہولوکاسٹ کیا ہے اورTHE GOD FATHER نے معاشرے کی وہ حقیقت کھل کر بتائی یہ وہ شاہکار بنی، سول وار پر ایک طویل فلم 1939 میں بنی GONE WITH THE WIND کہ کس طرح امریکہ میں برٹش راج ختم ہوا اور امریکہ بنا۔ ہالی وڈ نے ہر اچھے ناول اور کہانی پر فلم بنائی ادھر برطانیہ کے ڈیوڈلین نے سایہ ناز فلمیں بنا کر دنیا بھر میں جاپانی فوجیوں کی طاقت دکھائی اور دوسری طرف روسی انقلاب کی آڑ میں ایک لواسٹوری بنائی DR ZHIVACO کے نام سے اور اس سے پہلے تاریخ کو پردے پر اتارا LAWRENGE OF ARABIN” ان فلموں میں کرداروں کو سامنے پیش کیا گیا اور یہ ہی الیکٹر عوام میں بھی مقبول ترین بنے۔ دوسرے نمبر پر اٹلی نے فلم کے پردے پر اپنا نام بنایا۔ ایک چھوٹے سے موضوع کو لے کر BICYCLE THIEVES بنا ڈالی دوسری جنگ عظیم کے بعد بتایا گیا تھا کہ ایک باپ اپنی بائیسکل کو ڈھونڈ رہا ہے جو چوری ہوجاتی ہے۔ فلم کے ہدایت کار وتاریوڈی ساکا نے اس میں کوئی بھی جانا پہچانا اداکار نہیں لیاتھا۔ موضوع غربت اور اخلاقی ابہام پر مبنی تھا اور یہ دلچسپ فلم بنی تھی۔
وقت کے ساتھ معاشرے میں چڑھائو کے بعد اتار آنا شروع ہوگیا اور چور بازاری بڑھنی شروع ہوگئی مثال Wall Sheet کی ہے کہ ایک عام آدمی کو معلوم نہ تھا کہ قیمتوں میں اتار چڑھائو کے پیچھے کیا سازش ہے ان سب کا جواب تھا GREEO( لالچ) جو یہاں تک آتے آتے معاشرے میں اس سے ملی برائیوں کو ہوا دے رہا ہے اور باہر نکل کر دنیا کے ہر ملک میں پھیل رہاہے۔ بلکہ پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں اسے ہم بلیک مارکٹنگ کہتے تھے لیکن یہاں ہر چیز میسر ہے لیکن قیمت من مانی لی جارہی ہے قانون روکنے کے لئے نہیں بنا۔ اور یہ ہی حال جمہوریت کی بربادی، اور اس کے نام پر سیاست دانوں اور تاجروں کی من مانی ہے اور کوئی سرورس یا بزنس ایسا نہیں بچا ہے جہاں فراڈ نہ ہو یہاں امریکہ میں چیزیں دستیاب ہیں لیکن بیچنے والوں کی طے شدہ قیمتوں پر یہ بات ایک فلم SHOCKING MOMENT میں بتائی گئی ہے تاکہ لوگوں کو اس حقیقت کا پتہ چل سکے کہ نوے کے شروع میں بجلی کاریں آجاتیں لیکن خو GM نے انہیں جلا کر راکھ کردیا۔ اور اب ان کا راج ہے اور یہ جمہوریت ہے جو امریکن کو تگنی ناچ نچا رہی ہے مقررض بنا رہی ہے اور اس دوڑ میں میڈیا بھی شامل ہے جس کے خلاف فلمیں بنتی ہیں۔ یہاں فلم اداکار ان تمام بانوں پر احتجاج کرتے ہیں اور کھل کر بولتے ہیں۔ بس اس جمہوریت کا اتنا فائدہ ہے کہ ہم اگر سچ بات ہے تو لکھنے سے نہ گھبرائیں، حکومت خاموش رہتی ہے کہ امریکن چیخ وپکار کرکے خاموش ہوجائینگے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ عراق میں بمباری کے خلاف تقریباً ہر جگہ خصوصاً وہائٹ ہائوس کے سامنے مظاہرے ہوئے۔ اور پچھلے کئی سال سے دنیا بھر میں فلسطین میں غازہ کے عوام پر ظلم ہو رہا ہے۔ لیکن احتجاج کے باوجود نہ ہی امریکہ اور نہ ہی سیاست دانوں پر اثر ہو رہا ہے بش اور کلنٹن پھر بش اور اوبامہ اس کے بعد بائیڈین اور اب دوبارہ ٹرمپ کس کے شوق پورے کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے دنیا بھر میں نتن یاہو کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اور اب تک٧٠ ہزار فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے صدر ٹرمپ پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ پچھلے سال فرانس میں دنیا بھر کی فلموں پر ایوارڈز دیئے جاتے ہیں اور کینس فلم فیسٹیول میں دنیا بھر کے فلمی افراد جمع ہو کر بہترین اداکاری اور فلموں کو ایوارڈز دیتے ہیں ،اس دفعہ لائف ٹائمز ایوارڈز کے لئے ہالی وڈ کے ایکٹر رابرٹ ڈی نیرو کو نوازہ گیا، انہوں نے اپنی ساڑھے تین منٹ کی تقریر میں فلم میکرز اور ایکٹروں کو نصیحت کی کہ جمہوریت کے دشمنوں کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ ڈی نیرو نے کھل کر کہا کہ خودمختاری اور فسطائیت کے خلاف قدم اٹھائیں یہ جمہوریت نہیں بلکہ آمرانہ قوتیں ہیں اور سینما ہی ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے دنیا کو متحد کیا جاسکتا ہے ہر چند کہ دوسرے ملکوں میں فلم بین کر دی جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭











