غزہ بورڈ آف پیس کتنا فعال ہوگا؟
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے بنائے گئے ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی لیکن حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں ، ضروری نہیں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ممالک مستقبل میں ایسے ہی بورڈ کے رکن رہیں اس میں تبدیلی میں متوقع ہے ،اس حوالے سے اسرائیل کی تازہ دھمکی سب کے سامنے ایک مثال ہے جس میں کہا گیا کہ اگر ایران نے ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کو بورڈ آف پیس سے نکال دیا جائے گا کیونکہ اقوام متحدہ اجلاس کے دوران پاکستان نے ایران پر حملے کی مخالفت کی۔
قارئین! غزہ کے نام پر سامنے آنیوالا نیا امریکی منصوبہ بظاہر امن کی زبان بولتا ہے، مگر اسکی ساخت، اختیار اور طریقہ کار سنجیدہ خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ کوئی واضح فریم ورک نہیں بلکہ ایک مبہم خاکہ ہے جس میں طاقت،سر مایہ اور فیصلہ سازی چند ہاتھوں میں سمٹتی دکھائی دیتی ہے، جن کا فلسطین اور غزہ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امن کون نہیں چاہتا، اصل سوال یہ ہے کہ امن کس کے اصولوں پر اور کن مقاصد کیلئے قائم کیا جارہا ہے۔ سب سے بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس طرح کا فورم اقوام متحدہ کے کردار کو کہاں لے جا کر کھڑا کرتا ہے۔ اگر عالمی تنازعات کے حل کیلئے ایک متوازی ڈھانچہ تشکیل دیا جارہا ہے، جس میں شمولیت کیلئے بھاری مالی شرط رکھی گئی ہو اور قیادت تاحیات ایک ایسے فرد کے پاس رہے، جو اپنے ہی ملک میں متنازعہ ہے، تو پھر عالمی قانون، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی اتفاق رائے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ نو ا?بادیاتی دور کی یاد نہیں دلاتا، جہاں فیصلے مقامی فریقین کے بغیر طاقتور دارالحکومتوں میں ہوتے تھے۔ اس منصوبے میں سب سے تشویشناک پہلو فلسطینی نمائندگی کا فقدان ہے۔ غزہ جس مسئلے کا مرکز ہے، اسی کے اصل فریق کو فیصلہ سازی سے باہر رکھنا انصاف، شفافیت اور پائیدار حل کے تمام دعووں کو کمزور کر دیتا ہے۔ غزہ کو محض ایک ا?غاز قرار دے کر دیگر عالمی تنازعات تک پھیلنے کا عندیہ دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ محض ایک علاقائی کوشش نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی اور معاشی ایجنڈا ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ماضی میں اعلان کردہ اقدامات کا کیا انجام ہوا۔ جنگ بندی کے دعوے، تحفظ کے وعدے اور انسانی امدادکے اعلانات زمینی حقیقت کو تبدیل نہ کر سکے،فلسطینیوں کا قتل عام بدستور جاری ہے۔ اگر پہلے مرحلے کے نتائج واضح نہیں،تو دوسرے مرحلے پر اعتماد کیسے کیا جائے؟ خاص طور پر اس وقت، جب بمباری اور جانی نقصان کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس پورے منظر نامے میں یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ امن کے نام پر سر مایہ کاری، تعمیر نو اور کاروباری مواقع کو ترجیح دی جارہی ہے، جبکہ اصل سیاسی مسئلہ پس منظر میں جارہا ہے۔ جب تک قبضہ ختم نہیں ہوتا اور ایک خود مختار فلسطینی ریاست وجود میں نہیں ا?تی، اس طرح کے تمام انتظامی اور مالی منصوبے عارضی ثابت ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور عالم اسلام کو چاہیے کہ اس منصوبے کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیں۔ فیصلے جذبات یا دباو? میں نہیں بلکہ ا?زا درائے، اجتماعی مشاورت اور فلسطینی عوام کے حقیقی مفادات کو سامنے رکھ کر کئے جائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غزہ کے نام پر کوئی نیا استعمارجنم لے اور اسرائیل اپنی جنگ مسلم ممالک کے کندھوں پر بندوق رکھ کر جیت لے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کیلئے امن بورڈ قائم کر دیاہے۔ٹرمپ نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو غزہ کیلئے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔بورڈ میں فلسطینی نمائندگی غائب، بورڈ کے سر براہ صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں متنازع ترین شخصیت ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو رو بیو، اپنے داماد جیرڈ کشنر ارب پتی کاروباری شخصیت مارک روون اپا لو گلوبل، ورلڈ بینک کے سر براہ اجے بانگا، امریکی قومی سلامتی کی ٹیم کے رکن گیبریل، بلغارین سیاستدان نکولے ملا دینوف کی نامزدگی کا اعلان کر دیا ہے، وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ بورڈ میں مزید نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ امریکی صدر نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، کینیڈین وزیر اعظم اور ارجنٹائن کے صدر کو بھی بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔دوسری جانب امریکی پابندیوں کے باعث بھارت ایران کی چا بہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔ بھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی ہے جسکے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ چا بہار بندرگاہ کی ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی، انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ پر حکومت کے نمائندے بھی اجتماعی طور پر مستعفی ہو گئے ہیں۔
٭٭٭













