”ٹیرف کی جنگ”

0
8
ماجد جرال
ماجد جرال

عالمی معیشت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں تجارتی جنگیں دوبارہ سر اٹھا رہی ہیں۔ ایسے میں امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر ٹیرف لگانے کی دھمکیاں نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ کینیڈا کی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ٹیرف دراصل درآمدی اشیا پر عائد کیا جانے والا اضافی ٹیکس ہوتا ہے۔ جب کوئی ملک بیرونِ ملک سے آنے والی مصنوعات پر ٹیرف بڑھاتا ہے تو وہ اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مقامی صنعت کو تحفظ دینا اور غیر ملکی مصنوعات کی طلب کم کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اس پالیسی کے اثرات اکثر منفی اور دور رس ثابت ہوتے ہیں۔کینیڈا کے لیے خطرہ اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار امریکہ ہے۔ کینیڈا اپنی تقریبا 75 فیصد برآمدات امریکہ کو کرتا ہے جن میں گاڑیاں، لکڑی، اسٹیل، ایلومینیم، تیل، گیس اور زرعی مصنوعات شامل ہیں۔ اگر امریکہ ان اشیا پر بھاری ٹیرف نافذ کرتا ہے تو کینیڈین مصنوعات امریکی مارکیٹ میں مہنگی ہو جائیں گی، جس سے ان کی طلب کم ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کا براہ راست اثر روزگار پر پڑے گا۔ آٹو موبائل، مینوفیکچرنگ اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں لاکھوں افراد کام کرتے ہیں۔ آرڈرز کم ہونے کی صورت میں فیکٹریوں کو پیداوار گھٹانی پڑ سکتی ہے اور نتیجتا ملازمین کو نکالنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر اونٹاریو اور البرٹا جیسے صنعتی صوبوں کے لیے تشویش ناک ہو سکتی ہے۔ٹیرف جنگ کا ایک اور بڑا اثر مہنگائی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر کینیڈا جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگاتا ہے تو درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ اس کا بوجھ براہ راست عام صارف پر پڑے گا، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور قوتِ خرید میں کمی ہو سکتی ہے۔سرمایہ کاری بھی اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو سکتی ہے۔ جب تجارتی ماحول غیر مستحکم ہو تو غیر ملکی سرمایہ کار نئے منصوبوں سے گریز کرتے ہیں۔ اس سے معیشت کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ کینیڈین ڈالر پر بھی دبا بڑھنے کا خدشہ ہے۔ برآمدات کم ہونے کی صورت میں زرمبادلہ کی آمد گھٹ سکتی ہے، جس سے کرنسی کمزور ہو سکتی ہے۔ کمزور ڈالر کا مطلب ہے کہ درآمدات مزید مہنگی ہو جائیں گی، جو مہنگائی کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دے گا۔سیاسی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ ٹیرف کو اکثر دبا ڈالنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور USMCAجیسے تجارتی معاہدوں پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی برآمدات کو متنوع بنانا ہوگا اور یورپ، ایشیا اور مشرق وسطی کی منڈیوں تک رسائی بڑھانی ہوگی۔ ساتھ ہی سفارتی سطح پر مذاکرات کے ذریعے تجارتی تنازعات کو حل کرنا ہی بہتر راستہ سمجھا جاتا ہے۔مختصر یہ کہ امریکی ٹیرف دھمکیاں محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ کینیڈا کی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہیں۔ بروقت حکمت عملی اور متوازن خارجہ پالیسی ہی اس چیلنج سے نکلنے کا واحد حل ہے۔
٭٭٭
امریکی تاریخ میں، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر (MLK)اس لیے کافی اہم ہیں کہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here