پاکستانی سینٹرز کا دورہ امریکہ !!!

0
8
کوثر جاوید
کوثر جاوید

گزشتہ ہفتے پاکستان کے دو سینٹرز امریکہ کے دورے پر تھے شروع کی اطلاع کے مطابق آٹھ سے نو سینٹرز پاکستان سے امریکہ کے دورے پر آرہے ہیں لیکن آخر میں دو عدد سینٹرز تشریف فرما ہوئے ایک کا تعلق پیپلزپارٹی دوسرے کا تعلق دوسری سیاسی جماعت سے تھا۔ ان کے میزبان پاکستانی امریکن ڈاکٹر ہیں جن کی آرگنائزیشن ہے ،کپٹل ہل پر ریبرن آفس بلڈنگ میںتقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ ان دو سینٹرز کے ساتھ پانچ سات امریکی اراکین کانگریس بھی ہونگے لیکن اس تقریب میں صرف ایک رکن کانگریس ران ایسٹس آئے دیگر تین اراکین کانگریس کے سٹافر موجود تھے اکیلے رکن کانگریس نے جب خطاب کیا تو خطاب کا آغاز مبارکباد سے کیا کہ آج پاکستان نے غزہ امن گروپ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس کے بعد تین چار منٹ مزید بولے اور جلدی میں چلے گئے پاکستانی سینٹرز سے جب پوچھا کہ یہ دورہ گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ گورنمنٹ کا اس دورے سے کوئی تعلق نہیں یہ دورہ امریکی پارلیمنٹ اور پاکستانی پارلیمنٹ باہمی تعاون سے ہے اور آئندہ امریکی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا ۔اس تقریب میں میزبان ڈاکٹر صاحب نے خطاب کیا کہ یہ دورہ تاریخ ساز ہے 78 سالہ پاکستانی وامریکہ کی تاریخ میں کبھی ایسا دورہ نہیں ہوا۔ ٹیکساس متنازعہ شخصیت نے اپنے محدود معلومات کے مطابق خوش آمدیدی خطاب کیا میزبان ڈاکٹر صاحب نے یہ اعلان کیا کہ ہماری ملاقاتیں کپٹل ہل پرکئی اراکین کانگریس اور دیگر اہم لوگوں سے ہوئیں ہیں حیرانگی کی بات یہ تھی کہ سینیٹر کے اس دورہ میں کسی بھی تقریب میںسفارت خانہ پاکستان سے کسی نمائندے نے شرکت نہیں کی۔ حقیقت میں ان سینٹرز کی ملاقاتیں اراکین کانگریس کی بجائے ان کے سٹافر جو ان کے آفس میں کام کرتے ہیں ان سے ہوئیں۔ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی گئی جس میں پندرہ سے بیس لوگ ان میں دو یا تین صحافی تھے ورجینیا میں فائیو سٹار ہوٹل میں بھی ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں ہندو سکھ مسلمان کرسچن تمام مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی۔ اور روائتی خطابات کئے گئے سینٹرز صاحبان نے پاکستان کا نقشہ ایسا پیش کیا کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے لوگوں کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دے رہے تھے۔ پاکستان میں جس طرح لاقانونیت بیروزگاری ظلم ستم سیاسی ابتری کرپشن اور 95% پاکستانیوں کا ملک سے باہر جانے کا رحجان ان پر کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی ہمارے واشنگٹن کے زیرتعمیر میڈیا میں کسی نے ایسا کوئی سوال نہیں کیا ہم نے جب سینٹر صاحب کو سوال کیا کہ 50 سے زیادہ امریکی اراکین کانگریس اور سینیٹ نے جو پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور عمران خان کی بے جا قید پر مارکو روبیو کو خط لکھا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہماری کسی سرکاری امریکی عہدیدار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ابھی تک اس دورے کے اغراض مقاصد نامعلوم ہیں ان سینٹرز کا دورہ میڈیا بہت زیادہ کامیاب پیش کیا گیا لیکن حقیقت میں یہ جو پاکستانی سینیٹرز کا یہ دورہ ایک انفرادی عمل تھا جس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن میزبان ڈاکٹر صاحب نے اس دورے کے بارے میں پاکستانی سٹیک ہولڈرز سے اجازت مانگی تو حکومت کی طرف اجازت نہ دی گئی۔ اس کے باوجودڈاکٹر صاحب نے یہ ذاتی دعوت پر یہ وزٹ اور ان تقریبات کا انعقاد کیا۔ یہ تقریبات نہایت جوش خروش سے کی گئیں امریکہ میں کہاوت مشہور ہے کہ There is no Free lunch in usa امریکہ میں سیاستدانوں کے ساتھ تصویریں تو بن سکتی ہیں لیکن پاکستانی سٹائل جھوٹی سیاست نہیں چلتی یہ دورہ اور تقریبات سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہاں چند پاکستانی امریکن شخصیات ہیں جو پاکستان میں بھی مفادات رکھتی ہیں اور کئی اہم کاروبار کرتے ہیں کراچی اہم شہر ہے ان پاکستانی سینٹرز کو تقریبات کے ذریعے خوش کرنے کی کوشش لگتی ہے۔یہ تمام تفصیلات لکھنے کا مقصد یہ کہ ان تقریبات کا کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ہوا راقم الحروف نے میزبان ڈاکٹر صاحب کو واٹس ایپ مسیج بھیجا کہ آپ سے دورہ کی تفصیلات کیلئے بات کرنی ہے۔ انہوں نے کچھ دیر بعد فون کرنے کا وعدہ کیا لیکن شائد بھول گئے۔ (باقی آئندہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here