کامل افسانہ نگار!!!

0
9
عامر بیگ

اردو افسانہ اپنی تاریخ، روایت اور فکری گہرائی کے اعتبار سے ایک زرخیز صنف ہے، جس میں ہر عہد میں چند ایسے نام سامنے آتے ہیں جو محض لکھنے والے نہیں ہوتے بلکہ اپنے عہد کی فکری، تہذیبی اور جمالیاتی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ کامل احمر کا شمار ایسے ہی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں نہ صرف کلاسیکل افسانوی روایت سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ اپنے اندر ایک زندہ، متحرک اور ہمہ جہت تخلیقی روح بھی رکھتی ہیں۔ ان کے آنے والے افسانوی مجموعے کی کمپوزنگ کرتے ہوئے یہ حقیقت پوری شدت سے آشکار ہوتی ہے کہ کامل احمر محض ایک اچھے افسانہ نگار نہیں بلکہ ایک مکمل افسانہ نگار ہیں کلاسیکل انداز میں لکھے گئے افسانے جب قاری کے سامنے آتے ہیں تو عموما وہ یا تو ماضی کی بازگشت محسوس ہوتے ہیں یا پھر محض فنی مشق بن کر رہ جاتے ہیں، مگر کامل احمر کے افسانے اس عمومی تاثر سے یکسر مختلف ہیں۔ ان کے ہاں کلاسیکیت جامد نہیں بلکہ رواں ہے۔ ان کے افسانے پڑھتے ہوئے یہ احساس شدت سے اُبھرتا ہے کہ افسانہ نگار نے روایت کو بوجھ کے طور پر نہیں بلکہ ایک تخلیقی امکان کے طور پر برتا ہے۔ ان کے موضوعات جاندار، مربوط اور زندگی سے گہرے ربط میں ہیں، جبکہ جملے اس قدر تراشیدہ اور شستہ ہیں کہ پڑھنے کے بعد دیر تک ذہن پر اپنا اثر قائم رکھتے ہیں کامل احمر کی افسانہ نگاری کا ایک نمایاں وصف ان کی بصری قوت ہے۔ ان کے افسانے محض پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ دیکھنے کے لیے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قاری کسی پرد سیمیں کے سامنے بیٹھا ہو جہاں ایک کلاسیکل فلم چل رہی ہو۔ منظر نگاری اس قدر واضح، متحرک اور جیتی جاگتی ہے کہ قاری خود کو کہانی کے اندر موجود پاتا ہے۔ یہ خوبی محض فنی مہارت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہرے مشاہدے، وسیع مطالعے اور زندگی کو قریب سے دیکھنے کا ثمر ہے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کامل احمر کا فلم بینی سے گہرا تعلق ہے۔ ان کے افسانوں میں فلمی شعور نہایت لطیف اور تخلیقی انداز میں جھلکتا ہے۔ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی اہم فلم ہو جو انہوں نے نہ دیکھی ہو، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ دیکھی گئی فلموں کو یاد بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں مناظر اس ترتیب، روانی اور تاثیر کے ساتھ سامنے آتے ہیں جیسے کیمرہ آہستہ آہستہ فریم بدل رہا ہو۔ مگر یہ فلمی پن افسانے پر حاوی نہیں ہوتا بلکہ افسانے کی جمالیات کو مزید نکھارتا ہے کامل احمر کے افسانوں کی ایک اور بڑی خوبی ان کی تکمیل ہے۔ یہ افسانے کسی اضافی وضاحت یا غیر ضروری طوالت کے محتاج نہیں۔ جب ان کے افسانوں کا مکمل مسودہ پہلی بار ہاتھ میں آیا تو یہ احساس ہوا کہ یہاں کسی بڑے رد و بدل یا کانٹ چھانٹ کی گنجائش ہی نہیں۔ یہ افسانے اپنی جگہ اتنے مکمل، مربوط اور خود کفیل ہیں کہ محض املا اور کتابت کی معمولی تصحیح کے علاوہ کچھ کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔ یہ کسی بھی بڑے افسانہ نگار کی پہچان ہوتی ہے کہ اس کا متن خود اپنی حفاظت کرتا ہے یہ مسودہ حاصل کرنے کا مرحلہ بھی اپنے اندر ایک کہانی رکھتا ہے۔ کینسر جیسے موذی مرض سے نبرد آزما ہونے کے دوران، دو برس تک ان سے مسلسل گزارش کی جاتی رہی کہ وہ اپنا مواد کتابی شکل دینے کے لیے حوالے کر دیں۔ انہوں نے نہ انکار کیا اور نہ ہی فورا حوالے کیا، یہاں تک کہ ایک دن اصرار رنگ لے آیا اور انہوں نے مکمل مسودہ اس اعتماد کے ساتھ عنایت کر دیا کہ ہم فکری طور پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ یہ ان کی بڑائی، ظرف اور ادبی دیانت کی روشن مثال ہے کہ انہوں نے مکمل آزادی دیتے ہوئے کہا کہ جہاں چاہو کانٹ چھانٹ کر دو، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے افسانوں کو چھیڑنا خود ایک گناہ محسوس ہوتا ہے ادبی حوالے سے دیکھا جائے تو کامل احمر کے افسانوں میں ہمیں انتظار حسین کی داستانوی فضا کا ہلکا سا لمس ملتا ہے، کہیں منٹو کی بے باکی اور انسان دوستی یاد آتی ہے، اور کہیں قرالعین حیدر کی فکری گہرائی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مگر یہ سب اثرات ہونے کے باوجود، کامل احمر کا اپنا ایک منفرد رنگ ہے جو انہیں محض تقلید کرنے والوں کی صف سے الگ کر دیتا ہے۔ یہی ان کی اصل کامیابی ہے کہ وہ روایت سے جڑے رہتے ہوئے بھی اپنی الگ شناخت قائم رکھتے ہیں اس مجموعے میں گلزار جاوید کے مجلے میں شائع ہونے والے چند منتخب افسانے بھی شامل ہیں، جو پہلے ہی ادبی حلقوں میں اپنی قدر و قیمت منوا چکے ہیں۔ تاہم، کتابی شکل میں ان افسانوں کو پڑھنے کا لطف بالکل مختلف اور کہیں زیادہ گہرا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک افسانے کو نہیں بلکہ ایک مکمل تخلیقی سفر کو پڑھ رہا ہیایسا سفر جس میں ہر پڑا پر نیا ذائقہ، نیا احساس اور نیا معنی سامنے آتا ہے یہ کتاب محض ایک افسانوی مجموعہ نہیں بلکہ اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کا شائع ہونا اس لیے بھی ضروری تھا کہ کامل احمر جیسے افسانہ نگار کو محض نام سے جاننا کافی نہیں، انہیں پڑھنا ضروری ہے۔ اور یہ اعزاز حاصل ہونا کہ اس کتاب کو حلق اربابِ ذوق، پسکاٹوے نیو جرسی کے پلیٹ فارم سے دنیا کے سامنے لایا جا رہا ہے، بجائے خود ایک سعادت ہے آخر میں، دنیا کو کامل احمر کی صورت میں ایک ایسے افسانہ نگار کی مبارک باد دی جا سکتی ہے جس کے افسانے جتنی بار بھی پڑھے جائیں، ہر بار ایک نیا لطف، نیا مفہوم اور نیا ذائقہ عطا کرتے ہیں۔ ایسے افسانے کم ہی لکھے جاتے ہیں، اور جب لکھے جاتے ہیں تو دیر تک زندہ رہتے ہیں ۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here