فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
10

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! شب برآت شعبان العظم کی پندرہویں رات ہے، بہت برکتوں اور رحمتوں والی رات ہے اس رات کو قرآن مجید میں لیلة مبارکہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اور یہی وہ رات ہے جو سال کی اکثر راتوں سے افضل ہے اور اسی رات میں انسان کا رزق لکھ دیا جاتا ہے اور جس نے مرنا ہو اس کی موت بھی لکھ دی جاتی ہے بلکہ آئندہ پورے سال میں جو کام ہونے والے ہیں وہ لکھ دیئے جاتے ہیں اور یہی وہ مہینہ ہے جس کو سرکار دو عالم ۖ نے اپنا کہا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت ساتھ لئے شعبان معظم آپہنچا
سرکار نے جس کو اپنا کہا وہ ماہ مکرم آپہنچا
اس سے بڑھ کر خوش قسمت کون ہوسکتا ہے جسے والی کائنات ۖ اپنا کہیں ویسے تو توبہ ہر وقت کرنے کی ضرورت ہے باقی اس ماہ مقدس میں بھی تو یہ بہت قبول ہوتی ہے کسی شخص نے حضرت مالک بن دینار رضی اللہ عنہ سے ان کی توبہ کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں شراب پینے کا عادی تھا اور میری ایک چھوٹی سی بچی تھی، جو میرے سامنے شراب کی بوتلوں کو انڈیل دیتی تھی جب اس کی عمر دو سال کی تھی، تو فوت ہوگئی۔ جس کی وجہ سے میرے دل پر بڑا صدمہ ہوا جب شعبان کی پندرہویں رات یعنی شب برآت آئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہوگئی ہے اور ایک بڑا اژدھا اپنا منہ کھولے ہوئے میرے پیچھے لگ گیا میں بنے بھاگنا شروع کردیا تو مجھے ایک بزرگ نظر آیا میں نے اسے کہا کہ مجھے خدا کے لئے اس سانپ سے بچائو مگر اس بزرگ نے رو کر کہا کہ میں ضعیف وکمزور ہوں، تمہیں نہیں بچا سکتا لیکن تم آگے جائو، شاید اللہ تعالیٰ تیری نجات کا کوئی سبب بنا دے میں پھر بھاگا اور ایک آگ کے پاس گیا تو آواز آئی، واپس جائو میں واپس ہوگیا مگر سانپ میرے پیچھا میں رہا میں پھر اس بزرگ کے پاس سے گزرا اور اس سے پناہ مانگی، اس نے کہا کہ میں کمزور ہوں، تیری مدد نہیں کرسکتا، البتہ تو اس پہاڑ کی طرف چلا جا۔ اس میں مسلمانوں کی امانتیں ہیں اگر تیری بھی کوئی امانت ہوئی تو وہ تیری مدد کرے گی جب میں پہاڑے قریب پہنچا تو ایک فرشتہ نے آواز دی کہ دروازہ کھول شاید اس میں تمہاری کوئی امامت ہو تو وہ تجھے دشمن سے نجات دے گی جب دروازہ کھل گیا تو اچانک مجھے بچی نظر آئی جس نے دائیں ہاتھ سے مجھے پکڑا اور بائیں ہاتھ سے اژدھا کو دور کیا تو وہ سانپ بھاگ گیا بھر بچی نے کہا اباّ جان اور کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں، اللہ کی یاد کے لئے(پارہ نمبر٢٧ سورہ حدید١٢) یعنی کیا ابھی تک وہ وقت نہیں آیا، کہ تو توبہ کرے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا قرآن مجید جانتی ہے؟ اس نے کہا”ہاں” پھر میں نے اس سے سانپ کے متعلق پوچھا تو بچی نے کہا کہ وہ تیرا عمل بدتھا۔ اور وہ بزرگ تیرا نیک عمل تھا۔ مالک بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گھبراتے ہوئے بیدار ہوا تو میں نے مکمل طور پر توبہ کرلی(نزھتہ المجالس) نسائی شریف میں ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ!ۖ آپ کو سال میں اتنے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا جس کثرت سے آپ شعبان کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ ۖ نے فرمایا یہ رجب اور رمضان کے درمیان کا مہینہ ہے لوگ اس سے غافل رہتے ہیں۔اس ماہ میں اللہ کے حضور تمام لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ میری یہ خواہش ہے کہ میرا عمل پیش ہو تو میں روزے کے حالت میں ہوں۔ روایت ہے کہ فرشتوں کی دو عہد کی راتیں ہیں۔ جیسے کہ مسلمانوں میں زمین پر دو عیدیں ہیں۔ فرشتوں کی عید کی رات شعبان العظم کی پندرہویں رات ہے جسے شب برآت کہا جاتا ہے اور لیلة القدر ہے جو رمضان المبارک میں آتی ہے اور مسلمانوں کی عید دو دن ہے فطر کا دن اور قربانی کا دن یعنی یکم شوال المکرم اور دس ذی الحجہ اسی وجہ سے شعبان العظم کی پندرہویں رات کی فرشتوں کی عید کی رات کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ امام سبکی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اس رات کو عبادت کرنے سے سال بھر کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اور جمعہ کی رات کو عبادت کرنے سے ہفتہ بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسے لیلة النکفیر یعنی گناہوں کی معافی کی رات بھی کہا جاتا ہے اور شب حیات بھی کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ امام منذری نے مرضوع روایت نقل کی ہے جس نے عید کی دونوں راتوں میں، نصف شعبان کی رات کو شب بیداری کی یعنی عبادت کی اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مریں گے۔ اللہ تعالیٰ حقائق کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شب برآت کی طرح ہر لمحہ کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here