ہیوسٹن میں قائم پاکستانی کمیونٹی جب بھی وطن عزیز کی سمت کسی سانحے کی خبر سنتی ہے تو ہر شخص کا دل دہل جاتا ہے۔ لاہور کے پوش علاقے ویلنشیا ٹاؤن سے ابھرنے والی دل دہلا دینے والی خبر نے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں مقیم تارکین وطن کو شدید صدمے اور حزن و ملال میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ہی چھت تلے ماں اور تین معصوم بچوں کی زہر خوری سے موت نے نہ صرف انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے بلکہ اوورسیز پاکستانی معاشرے کے اندر چھپے ان گہرے زخموں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جن پر ہم روز مرہ کی چمک دمک میں پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب میں اپنے ارد گرد بسنے والے دیار غیر کے خاندانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ہر چہرے پر ایک انجانا خوف اور ذہنی دباؤ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔ ہر سال اس نوعیت کے دو سے تین ہولناک واقعات دیار غیر یا پاکستان میں رونما ہوتے ہیں جہاں اپنوں ہی کے ہاتھوں اپنوں کے گلے کاٹے جاتے ہیں یا زہر کے پیالے پلائے جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ حادثے کے روز چند دن کے لیے سوشل میڈیا پر ماتم کیا جاتا ہے، تعزیتی پیغامات کی بوچھاڑ ہوتی ہے اور پھر سب کچھ بھول کر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ ان مجرمانہ رجحانات اور نفسیاتی بگاڑ کا سدباب کرنے کے لیے نہ تو ہماری کمیونٹی میں کوئی ٹھوس اجتماعی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور نہ ہی ریاست یا قانون نافذ کرنے الے ادارے اس طرح کے سانحات کی گہری نفسیاتی اور سماجی وجوہات پر دھیان دیتے ہیں۔
لاہور میں پیش آنیوالے اس لرزہ خیز واقعے کے بنیادی حقائق کی تبدیلی نے ہر ذی شعور کو مزید شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق انگلیاں سیدھی شوہر یعنی گھر کے سربراہ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ ایک ہی لمحے میں پورے معاشرے نے اسے سفاک قاتل قرار دے دیا کیونکہ ماضی میں بھی زیادہ تر واقعات میں مردانہ تشدد ہی کا غلبہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم جوں جوں جدید ٹیکنالوجی، خریداری کے ریکارڈ، تصویری ثبوت اور شاہدین کے بیانات سامنے آئے تو تفتیش کا رخ یکسر بدل گیا۔ تمام شواہد، وقت کے تعاقب اور جائے وقوعہ سے ملنے والے سراغ اب ماں کی جانب اشارہ کر رہے ہیں جس نے شاید شدید ذہنی تناؤ، ذہنی عارضے یا شدید مایوسی کے عالم میں اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کو زہر دے کر خود بھی موت کی آغوش میں پناہ لے لی اور شوہر پر الزام دھرنے کی کوشش کی۔ حقیقت چاہے شوہر کا جبر ہو یا بیوی کا سنگین اقدام، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہنستا کھیلتا خاندان اس حد تک کیسے پہنچ گیا کہ محبت اور شفقت کی تمام حدود ختم ہو گئیں؟
بیرون ملک بالخصوص ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا میں مقیم پاکستانی اور ہندوستانی خاندانوں میں بڑھتا ہوا تناؤ اور ازدواجی بگاڑ ایک بھیانک حقیقت بن چکا ہے۔ امریکہ کی تیز رفتار زندگی، بے رحم مالیاتی نظام، تنہائی، کمیونٹی کے تعاون کا فقدان اور ثقافتی کشمکش ہمارے خاندانوں کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ اکثر اوقات روزگار کا بے پناہ دباؤ، شوہر اور بیوی کے درمیان بات چیت کی کمی، اور سب سے بڑھ کر ذہنی صحت کے مسائل کو چھپانے کا رجحان ان رشتوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں ذہنی امراض یا نفسیاتی الجھنوں کو ایک شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے اور طبی امداد لینے کے بجائے معاملے کو قالین کے نیچے چھپا دیا جاتا ہے۔ جب دیار غیر میں گھریلو ناچاقیاں اور نفسیاتی مسائل حد سے بڑھ جاتے ہیں تو تارکین وطن کا پہلا اور سب سے غلط فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ خاندان کو واپس پاکستان منتقل کر دیا جائے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ وطن واپسی، رشتہ داروں کی موجودگی اور ماحول کی تبدیلی ان کے تمام مسائل کا معجزاتی حل ثابت ہوگی۔
لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جو مسائل امریکہ یا یورپ کی آسائشوں میں حل نہ ہو سکے وہ پاکستان جا کر مزید بھیانک روپ دھار لیتے ہیں۔ اچانک ماحول کی تبدیلی، بچوں کے تعلیمی مسائل، گرمی کا احساس، رہائشی انتظامات کی تنگی اور حاسدانہ سماجی رویے پہلے سے بکھرے ہوئے خاندان پر مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ یہی کچھ اس بدقسمت خاندان کے ساتھ بھی ہوا۔ پاکستان میں بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے اور گھر بسانے کی جو امیدیں لے کر یہ لوگ امریکہ سے لاہور پہنچے تھے، وہ چند ہی دنوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ اگر بیرونی ممالک میں مقیم تارکین وطن اپنے گھریلو جھگڑوں، ذہنی تناؤ اور ناچاقیوں کا علاج پیشہ ورانہ کونسلنگ اور بروقت طبی امداد کے ذریعے کرنے کے بجائے محض جغرافیائی تبدیلی سے حل کرنا چاہیں گے تو نتیجہ ایسے ہی الم ناک واقعات کی صورت میں نکلے گا۔
ہیوسٹن اور دیگر امریکی شہروں میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی کو اب اس غفلت کی نیند سے جاگنا ہوگا اور ہر سال دو تین خاندانوں کی یوں دردناک تباہی پر خاموش تماشائی بننے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر ایک ایسا مضبوط سماجی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں ذہنی امراض کے شکار افراد بغیر کسی شرمندگی کے مدد حاصل کر سکیں اور جہاں تشدد یا گہرے نفسیاتی بحران سے گزرنے والے خاندانوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اگر ہم نے اب بھی ان سانحات سے سبق نہ سیکھا اور مجرمانہ غفلت کا سلسلہ جاری رکھا تو لاہور کا یہ سانحہ آخری سانحہ ہرگز نہیں ہوگا۔ دیار غیر میں روشن مستقبل کی تلاش میں نکلنے والے معصوم بچوں کو یوں اپنوں کے ہاتھوں قربان ہونے سے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری اور قومی فرض ہے۔











