واشنگٹن (پاکستان نیوز)اردن میں قائم امریکی بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت، ایک کی گمشدگی اور چار کو طبی علاج کے لیے منتقل کیے جانے کے بعد امریکہ بھر میں شدید صدمہ اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو خبر پہنچائے جانے کا عمل مکمل ہونے تک ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ جنگ کے آغاز سے اب تک 16 امریکی فوجی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ 430 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے جاری جنگ میں شدت آ چکی ہے، جو پہلے عالمی خام تیل کی ترسیل کا پانچواں حصہ یا 20 فیصد سنبھالتی تھی۔ اس شدید تصادم نے نہ صرف عام شہریوں اور پینے کے پانی کو نمک سے پاک کرنے والے پلانٹس جیسے اہم قومی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک بار پھر شدید بحران اور الرٹ پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی عوام اور سیاسی تجزیہ کاروں نے ان ہلاکتوں پر غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال نہایت تاریک اور تشویشناک ہو چکی ہے اور کشیدگی کم ہونے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی۔ سیاسی حکمت عملی ساز مائیک نیلس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران پر جنگ مسلط کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ یہ سب کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ حکمرانوں کے پاس کوئی واضح منصوبہ یا مشن نہیں ہے اور محض ذاتی انا کے لیے ملک کے بیٹوں اور بیٹیوں کو موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ دیگر سیاسی مبصرین نے بھی اسے ٹرمپ کی غیر قانونی جنگ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔










