واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ نے قوم سے اپنے ایک اہم خطاب کے دوران ملک کے انتخابی نظام کی سیکیورٹی اور شفافیت کے حوالے سے اہم دعوے کیے ہیں۔ اپنے اس خطاب میں انہوں نے موقف اپنایا کہ امریکی انتخابات میں غیر ملکی مداخلت اور ممکنہ خطرات سے متعلق نئی اور حساس معلومات سامنے ائی ہیں جس کے بعد انہوں نے ان سے متعلقہ خفیہ دستاویزات کو فوری طور پر عام کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ان تمام دستاویزات کو عوامی سطح پر لانے کا بنیادی مقصد انتخابی نظام میں موجود ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ آئندہ ہونے والے انتخابات کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ملک کی معاشی صورتحال اور اصلاحات کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی قانون ساز ادارے کانگریس پر بھی زور دیا کہ وہ انتخابی سیکیورٹی سے متعلق نئے قوانین کو بلا تاخیر منظور کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے جمہوری عمل پر اثر انداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملک کو اپنے جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے سخت اور فوری اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری جانب متعدد انتخابی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام کی جانے والی دستاویزات ٹرمپ کے تمام دعوؤں کی مکمل طور پر تائید نہیں کرتیں اور اس قسم کے بیانات سے عوام کے اندر انتخابی عمل پر اعتماد کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ اس خطاب نے امریکی سیاست میں ایک نیا بحث و مباحثہ چھیڑ دیا ہے کیونکہ سیاسی مخالفین ان الزامات کو ان کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ صدر کے حامی ان اقدامات کو ملک میں شفافیت قائم کرنے کی بہترین کوشش مانتے ہیں۔











