نیویارک (پاکستان نیوز) امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانیوالے تاریخی سویلین ایٹمی معاہدے نے جہاں واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات میں نئی روح پھونک دی ہے، وہیں مشرق وسطیٰ کی دو اہم ترین علاقائی طاقتوں یعنی اسرائیل اور ایران میں شدید تحفظات، ردعمل اور سیاسی اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منظور کیے گئے اس تیس سالہ معاہدے کے تحت امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے جس 123 ایگریمنٹ اور باہمی سیف گارڈ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں ایٹمی بنیادی ڈھانچے اور بالخصوص یورینیم کی مقامی افزودگی کے منصوبوں پر کام کریں گی۔ یوں تو یہ معاہدہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کا مقصد مملکت کی توانائی ضروریات کو پائیدار بنانا اور ویژن 2030کو عملی جامہ پہنانا ہے، لیکن اس کے اثرات نے اسرائیل اور ایران دونوں کیلئے سیکیورٹی اور سفارتی محاذ پر نئی ابلاغی و سٹریٹیجک تشویش پیدا کر دی ہیں۔اسرائیل کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ معاہدہ اس کے لیے اک گہرے تزویراتی تحفظات اور سیکیورٹی خوف کا باعث بنا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان تعلقات کی بہتری کو خطے میں ایران کے خلاف توازن پیدا کرنے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، لیکن اسرائیل کی دیرینہ پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کسی بھی عرب یا اسلامی ملک کو یورینیم افزودہ کرنے کی مستقل صلاحیت نہ دی جائے تاکہ خطے میں اسرائیل کی تنہا عسکری و ٹیکنالوجیکل برتری قائم رہے۔ اس معاہدے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کی مشہور اسرائیل دوست تنظیم زسٹ آرگنائزیشن آف امریکہ کے قومی صدر مورٹن کلین نے ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے امریکی کانگریس سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاہدے کو فوری طور پر رد کرے۔ مورٹن کلین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو اپنے ہی ملک کی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دینا ایک خطرناک غلطی ہے جو پورے مشرق وسطیٰ میں ایٹمی دوڑ کو تیز کر دے گی اور اس سے اسرائیل کی سلامتی کے لیے ناقابلِ تلافی خطرات پیدا ہوں گے۔ اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کو خدشہ ہے کہ اگر بالفرض مستقبل میں خطے میں سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں تو یہی سویلین ایٹمی ڈھانچہ کسی بھی وقت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، اور یوں مشرق وسطیٰ میں ایٹمی عدم پھیلائو کا روایتی نظام زمین بوس ہو جائے گا۔دوسری جانب ایران کا نقطہ نظر ایک شدید سیاسی غصے اور دوہرے معیار کی شکایت سے عبارت ہے۔ تہران کی قیادت عرصے سے یہ موقف اپناتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے نالہ کناں رہی ہے کہ اسے جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے کا حصہ ہونے کے باوجود یورینیم کی پرامن افزودگی سے روکا جاتا رہا ہے اور اس پر گرانبار اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ دوسری طرف اس کے اہم ترین علاقائی حریف سعودی عرب کو امریکی شراکت داری میں یورینیم کی مقامی افزودگی کا تحفہ دیا جا رہا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کا یہ دوہرا معیار عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اصولوں کا کھلم کھلا مذاق ہے۔ تہران میں دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے بعد ایران پر اپنے ایٹمی پروگرام کو مزید تیز کرنے اور اسے مزید تحفظ فراہم کرنے کا شدید داخلی دباؤ بڑھے گا۔ ایرانی حکمت عملی کے مطابق اگر سعودی عرب امریکی ضمانتوں کے ساتھ یورینیم افزودہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اس سے تہران کی علاقائی قوتِ مدافعت متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں خطہ ایک نہ رکنے والی نئی ایٹمی صف بندی میں داخل ہو جائے گا۔اس پورے تناظر میں واشنگٹن کے اپنے ایوانوں میں بھی ایک زبردست سیاسی جنگ چھڑ چکی ہے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے معاہدے کے فوری بعد اپنے تفصیلی بیان میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ یہ معاہدہ ایٹمی عدم پھیلائو کے اعلیٰ ترین عالمی معیارات پر پورا اترتا ہے اور اس سے جہاں امریکی اقتصادیات کو فائدہ ہوگا وہاں امریکہ اور اس کے اتحاد یوں کی سیکیورٹی بھی مضبوط ہوگی۔ تاہم کانگریسی اراکین کی ایک بڑی تعداد بالخصوص ڈیموکریٹس اور سخت گیر سیکیورٹی ماہرین روزمیری کیلانک جیسے مبصرین کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب خطہ پہلے ہی بدامنی کا شکار ہے تو ایسے میں ایک نئے ملک کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ بالخصوص جبکہ اس معاہدے میں اضافی پروٹوکول جیسے کڑے معائنے کی شرائط شامل نہیں کی گئیں۔ اب سب کی نظریں امریکی کانگریس کے قانونی جائزے پر جمی ہیں جہاں اسرائیلی لابی اور عدم پھیلائو کے حامی قانون ساز اس معاہدے کو روکنے کی آخری کوششیں کریں گے، جبکہ سعودی عرب اور امریکی انتظامیہ اسے ہر قیمت پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔










