تجزیہ: فرید ذکریہ
بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں ترجیحات اور تعلقات کا بدلنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن بعض اوقات ریاستیں اپنی غیر معمولی حکمت عملی سے دنیا کو حیران کر دیتی ہیں۔ حال ہی میں امریکہ اور ایران کے مابین جاری امن مذاکرات اگرچہ سست روی کا شکار ہیں، مگر ان مذاکرات کو ممکن بنانیوالے مرکزی سہولت کار یعنی پاکستان کو عالمی سطح پر بھرپور پزیرائی مل رہی ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جو کچھ عرصہ قبل تک واشنگٹن میں شدید تنقید کا نشانہ بن رہا تھا، مگر آج وہ نہ صرف ان اہم مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک کلیدی رابطے کا ذریعہ بن کر ابھرا ہے، جس سے اس کا سفارتی وقار بلند ہوا ہے۔
اگر ہم ماضی قریب کا جائزہ لیں تو صورتحال بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ سال 2018 کے آغاز پر اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سے شدید نالاں تھے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ماضی میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی لیکن بدلے میں اسے صرف دھوکہ ملا۔ اس کے فوراً بعد امریکہ نے اسلام آباد کی کروڑوں ڈالر کی فوجی امداد معطل کر دی جس سے دونوں ممالک کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے۔ لیکن وقت کا پہیہ گھما اور آج وہی اسلام آباد امریکی قیادت کو ایک ایسے بحران سے نکالنے میں مدد کر رہا ہے جو خود واشنگٹن کا پیدا کردہ ہے۔ پاکستان خطے میں امن کے ضامن کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو کوئی دوسرا ملک یا عالمی ادارہ انجام دینے میں ناکام رہا، یعنی ایک طویل عرصے کے بعد امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کو آمنے سامنے بٹھانا۔
ماہرین اس ڈرامائی تبدیلی کی وجہ پاکستان کی جدید سفارتی حکمت عملی کو قرار دیتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے امریکی صدر کے مزاج اور ان کی سفارتی ترجیحات کو بہت باریکی سے سمجھا اور اسی کے مطابق اپنے پتے کھیلے۔ پاکستان نے امریکی قیادت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے ایسے راستے چنے جو روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر تھے۔ اسلام آباد نے جنوری 2025 میں امریکی قیادت سے وابستہ ایک مالیاتی ادارے کے ساتھ سرحد پار ادائیگیوں کے نظام پر بات چیت کا آغاز کیا جو کہ ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے سے متعلق تھا۔ اس کے علاوہ واشنگٹن میں بااثر اور حامی لابیوں کی خدمات حاصل کی گئیں، اور پاکستان کے وسیع معدنی وسائل کو امریکی سرمایہ کاری کے لیے ایک سنہری موقع کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ سفارتی جوڑ توڑ کے تحت امریکی صدر کا نام امن کے عالمی اعزاز کے لیے بھی تجویز کیا گیا۔
اس پوری مہم میں پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار بھی انتہائی نمایاں رہا۔ انہوں نے خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو ایران اور اس کے مفادات سے گہری واقفیت رکھتا ہے اور جو کسی بھی قسم کی دفتری رکاوٹوں کے بغیر سفارتی معاہدوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ذاتی اثر و رسوخ اور پراعتماد انداز نے امریکی قیادت کو بے حد متاثر کیا جس کے نتیجے میں پاکستانی قیادت کو خصوصی توصیف سے نوازا گیا۔
یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ جب کسی ملک کی خارجہ پالیسی میں تجارتی قربت، عوامی ستائش اور ذاتی رابطوں کو اہمیت دی جانے لگے، تو وہی ممالک کامیابی حاصل کرتے ہیں جو ان طریقوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے اس نئی سفارتی زبان کو نہ صرف سیکھا بلکہ اپنے حریفوں کے مقابلے میں زیادہ روانی سے بول کر دکھایا۔ امن کے مذاکرات کے لیے کارکردگی، مفادات اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، اور اسلام آباد نے یہ تینوں عناصر فراہم کر کے خطے میں سفارت کاری کا تاج اپنے سر سجا لیا ہے۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ اس کامیابی کو کس طرح برقرار رکھتا ہے۔










