امریکہ ؛ افراط زر اور مہنگائی میں ریکارڈاضافہ

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ میں صارفین کیلئے اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے تازہ ترین اعداد و شمار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مزید بری خبر لے کر آئے ہیں کیونکہ مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ گزشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے نئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروری میں مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے سے پہلے سالانہ اضافہ 2.4 فیصد تھا، جب کہ موجودہ شرح اپریل 2023 کے بعد سے تیز ترین رفتار ہے۔ صرف مئی کے ایک مہینے میں ہی قیمتوں میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ایران پر ٹرمپ کے حملے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی ترسیل کا لگ بھگ 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ اس پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس نے مال برداری اور رسد کے نظام کو انتہائی مہنگا کر دیا ہے اور روزمرہ کی تمام اشیائ کی قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ ڈال دیا ہے۔ دوسری طرف صدر نے عام امریکیوں پر مہنگائی کے اثرات کو کم تر ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے مقابلے میں وہ عام لوگوں کی مالیاتی صورتحال کی پرواہ نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگ کا حل جلد ہی سامنے آنے والا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات یا حتمی وقت نہیں بتایا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here