نیویارک میں معاشی بحران ؛15ہزار سے زائد دکانیں ویران

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)عالمی وبا کے وار کے چھ برس بعد بھی نیویارک کی تجارتی شاہراہیں مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکیں، جس کا ثبوت شہر بھر میں پھیلی ہزاروں بند دکانیں ہیں۔ شہر کے حسابات داں کے دفتر سے جاری ہونیوالے پہلے جامع زمینی جائزے کے مطابق، اس وقت نیویارک میں تجارتی مقامات کے خالی ہونے کی شرح گیارہ فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو 2020 کے آغاز میں ساڑھے دس فیصد تھی۔ یہ نئے اعداد و شمار ناظم اعلیٰ زہران ممدانی کے ان حالیہ بیانات کی نفی کرتے ہیں جن میں انہوں نے کاروباری سرگرمیوں میں ریکارڈ بہتری کا دعویٰ کیا تھا۔ اگرچہ ناظم اعلیٰ کے دفتر کا مؤقف ہے کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں طویل عرصے سے بند سیکڑوں دکانوں کو دوبارہ آباد کیا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تجارتی بحران شہر کے مختلف حصوں میں انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خالی دکانوں کی سب سے زیادہ تعداد زیریں مین ہٹن، شمالی بروکلم اور مغربی کوئینز میں دیکھی گئی ہے۔ زیریں مین ہٹن کے بعض تجارتی علاقوں میں دکانوں کے بند ہونے کی شرح اکیس فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے، یعنی وہاں ہر چار میں سے ایک دکان مستقل ویران ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دکانوں کے کرایوں میں 2019 کے مقابلے میں پچیس فیصد تک کمی آنے کے باوجود نئے تاجروں کے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے مناسب سرمایہ موجود نہیں ہے۔ دکانوں کے مالکان بھی ایسے ناتجربہ کار تاجروں کو جائیداد دینے سے کتراتے ہیں جو مستقبل میں کرایہ نہ دے سکیں، کیونکہ شہر کے پیچیدہ قوانین کے باعث نادہندہ کرائے داروں سے دکان واپس لینا ایک طویل ترین عمل بن جاتا ہے۔ پسماندہ علاقوں میں نوے فیصد دکانیں گزشتہ نو ماہ سے زائد عرصے سے بند پڑی ہیں، جو شہر کی معیشت میں گہرے جمود کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here