واشنگٹن (پاکستان نیوز)عوامی رائے عامہ کے نئے جائزے کے مطابق سرکردہ امریکیوں کی ایک بڑی اکثریت ایران کے ساتھ جاری جنگ کا فوری خاتمہ چاہتی ہے۔ دی اکانومسٹ اور یوگاو کی جانب سے مشترکہ طور پر کیے گئے ایک تازہ ترین سروے میں 68 فیصد جواب دہندگان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی حکومت کو ایک معاہدے کے ذریعے ایران جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہیے، جبکہ صرف 11 فیصد نے اس رائے سے اختلاف کیا اور 21 فیصد افراد کسی حتمی فیصلے کے بارے میں تذبذب کا شکار نظر آئے۔ ایران کے خلاف یہ جنگ 3 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے جس نے نہ صرف عالمی معیشت پر دباؤ ڈالا ہے بلکہ امریکہ کے بین الاقوامی اتحادوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل کی صنعت کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں عام گیسولین کی اوسط قیمت 4.24 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ سال 3.14 ڈالر تھی۔دوسری جانب امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک علامتی قانون سازی منظور کی ہے جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ فوری طور پر ختم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ ایوان میں اس اقدام کے حق میں 215 اور مخالفت میں 208 ووٹ آئے۔ اس تحریک کی خاص بات یہ تھی کہ 4 ریپبلکن اراکینِ اسمبلی نے بھی اپنی پارٹی پالیسی سے ہٹ کر تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس مسودے کی حمایت کی۔ سروے کے مطابق مجموعی طور پر 60 فیصد امریکی اس تنازع کے سخت خلاف ہیں جبکہ محض 28 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ اہم سروے 29 مئی سے 1 جون کے درمیان 1604 امریکی شہریوں کی آرائ پر مبنی ہے۔









