برطانیہ میں طالب علم کے قتل کے بعد سکھوں کیخلاف نفرت میںشدید اضافہ

0
7

لندن (پاکستان نیوز)امریکہ میں سکھ حقوق کی معروف تنظیم سکھ کولیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہرمن سنگھ نے سکھ برادری کے نام ایک تفصیلی خط میں برطانیہ میں پیش آنے والے قتل کے ایک حالیہ واقعے کے بعد سکھ برادری کے خلاف بڑھتی ہوئی منفی بیان بازی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کمیونٹی پر زور دیا ہے کہ وہ اس منظم پروپیگنڈے کیخلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ ہرمن سنگھ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ دسمبر 2025 میں ساؤتھمپٹن یونیورسٹی کے برطانوی طالب علم ہنری نوواک کے قتل اور اس جرم میں سکھ نوجوان وکرم ڈگوا کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد، برطانیہ اور امریکہ میں دائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سکھ مخالف مہم شروع کر دی گئی ہے۔ برطانیہ میں ریفارم یو کے اور ریسٹور بریٹن جیسی جماعتوں نے سکھوں کے مذہبی نشان کرپان پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکہ میں ٹکر کارلسن اور نک فونٹس جیسے بااثر آن لائن رہنماؤں نے اس واقعے کو تارکین وطن کی مخالفت کے لیے استعمال کیا ہے۔ ہرمن سنگھ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس واقعے کو قومی قدامت پسندی کے نظریے سے جوڑتے ہوئے تارکین وطن کے بڑے پیمانے پر حملے سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سکھ برادری اب کسی غلط فہمی یا نادانستہ نشانہ بننے کا شکار نہیں ہے، بلکہ سکھوں کی نقل مکانی، ٹرک انڈسٹری میں ان کے کردار اور ان کے مذہبی عقائد کو براہ راست اور منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اگرچہ اکال تخت سمیت تمام بڑی سکھ تنظیموں نے اس قتل کی شدید مذمت کی تھی، لیکن پھر بھی برادری پر حملے جاری ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مخالفت کسی ایک واقعے کی وجہ سے نہیں بلکہ سکھ شناخت کے خلاف ایک گہری دشمنی کا حصہ ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here