نیویارک (پاکستان نیوز)ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ مالی گوشواروں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ جاری کردہ دستاویزات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صدر ٹرمپ اور ان کے خاندان نے کرپٹو کرنسی کے منصوبوں سے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم کمائی ہے۔ یہ آمدنی بنیادی طور پر دو اہم ذرائع سے حاصل ہوئی جن میں ایک جانب ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کرپٹو ادارہ ہے جس کی بنیاد ٹرمپ کے بیٹوں نے رکھی اور صدر خود اس کے سرپرست ہیں تو دوسری جانب ٹرمپ کے نام سے منسوب میم کوائنز کی فروخت شامل ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ سنہ 2021 میں صدر ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کو ایک دھوکہ قرار دیا تھا تاہم اب یہ ان کی دولت کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ سیاسی ناقدین اس پیشرفت کو مفادات کے ٹکراؤ کا واضح معاملہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ صدر کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے حق میں کی جانے والی پالیسی سازیاں کیا عوامی مفاد میں ہیں یا ذاتی تجارتی فوائد کے لیے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک قانونی اور شفاف کاروباری عمل قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی قوانین کی پیچیدگیوں کے باعث صدر کے عہدے پر فائز شخصیت کے لیے اس قسم کے کاروباری معاملات میں اخلاقی حدود کا تعین کرنا بدستور ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔











