نیویارک (پاکستان نیوز)فاکس نیوز کے معروف میزبان مارک لیوین نے اپنے ہفتہ وار پروگرام لائف، لبرٹی اینڈ لیوین میں ایران کے خلاف جاری جنگ کی مخالفت کرنے والے اور مہنگائی کی شکایت کرنے والے امریکیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لیوین نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پوری امریکی قوم جنگ کے موقع پر دشمن کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا عزم ظاہر کرتی تھی، لیکن آج لوگ پیٹرول اور خوراک کی معمولی قیمتوں میں اضافے کا رونا رو رہے ہیں۔انہوں نے امریکیوں کا موازنہ دوسری جنگ عظیم کے دور سے کرتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں قومی اتحاد اور فتح اہم ترین مقصد تھا اور اس وقت کوئی کھانے پینے کی اشیا یا گیس کی قیمتوں پر بحث نہیں کرتا تھا۔ لیوین نے کہا کہ آج نہ تو نوجوانوں کے لیے لازمی فوجی خدمت یعنی ڈرافٹ ہے اور نہ ہی یہ نسل اس قابل دکھائی دیتی ہے کہ وہ دوسری جنگ عظیم جیسے بڑے بحران کا مقابلہ کر سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ سے امریکیوں کی اکثریت کا ذاتی یا ان کے خاندانوں کا براہ راست کوئی نقصان نہیں ہو رہا، اس کے باوجود لوگ معمولی 1 ڈالر پیٹرول کے اضافے اور برگر و ٹیکو کی قیمتوں پر واویلا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری ایران کے ساتھ ملکی تصادم کے باعث امریکہ میں پیٹرول اور گروسری کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی تخمینوں کے مطابق امریکی خاندان توانائی کے اخراجات کی مد میں تقریبًا 450 ڈالر اضافی رقم ادا کر چکے ہیں جس سے مجموعی طور پر صارفین پر 60 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ پیٹرول کی فی گیلن قیمت 4 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیا جیسے گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی 12 سے 16 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔













