نیویارک (پاکستان نیوز)اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس متنازع پالیسی کو بڑی حد تک مسترد کر دیا ہے جس کے تحت تارکین وطن کو ان کے آبائی وطن کے بجائے کسی تیسرے ملک منتقل یا ملک بدر کیا جاتا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی بھی شخص کو بغیر مناسب اطلاع اور اپنے دفاع کا بامعنی موقع دئیے بغیر کسی ایسے تیسرے ملک ڈیپورٹ کرنا جہاں اس کا کوئی سابقہ تعلق یا رشتے داری نہ ہو قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پالیسی کے مطابق حکومت ان تارکین وطن کو متبادل ممالک بھیج سکتی تھی جنہیں اپنے آبائی وطن میں خطرات کے باعث واپسی سے تحفظ حاصل تھا بشرطیکہ حکام کے پاس اس بات کی ضمانت ہو کہ انہیں نئے ملک میں بھی تشدد کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ رپورٹس کے مطابق اس اسکیم کے تحت اب تک 25000 سے زائد تارکین وطن کو میکسیکو سمیت دنیا کے 29 مختلف تیسرے ممالک میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق امریکی حکومت اس فیصلے کو نچلی عدالتوں کے بعد اب امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ دوسری جانب اپیلز کورٹ نے نچلی عدالت کے ایک تکنیکی اور طریقہ کار سے متعلق فیصلے میں جزوی ترمیم بھی کی ہے جس کا تعلق ڈیپورٹیشن کی شقوں سے تھا۔












