نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کا منڈپ اس بار محض ایک روایتی تقریب نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ایک نہایت حساس اور پراسرار معرکے کا میدان بنا رہا۔ ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایوانِ عام میں تند و تیز اور سخت الفاظ کا استعمال تھا تو دوسری جانب پسِ پردہ انتہائی اہم اور خفیہ سفارتی گفت و شنید کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ تاریخ کے اس باریک موڑ پر سب سے بڑا سوال جو سیاسی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے ذھنوں میں گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا نیویارک کی ان راہداریوں میں کوئی فریق واقعی پیچھے ہٹا ہے یا پھر یہ محض اپنے اپنے سیاسی اور دفاعی مقاصد کے حصول کے لیے وقت حاصل کرنے کی ایک پیچیدہ چال ہے۔ اس تمام تر صورت حال کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی گہرائی، تاریخی پس منظر اور ان طاقتور محرکات کا جائزہ لینا ہوگا جو اس پورے منظر نامے کو تحرک فراہم کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اس اجلاس کے دوران ایک طرف جہاں جذباتی اور جارحانہ بیانیے کی گونج سنائی دے رہی تھی، وہیں دوسری جانب انتہائی اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے درمیان گھنٹوں پر محیط ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں ایک سات روزہ معاہدے کی تجویز بھی سامنے لائی گئی جس کے تحت اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور تجارتی راستوں یعنی آبنائے ہرمز کی کشادگی کے بعد ایٹمی معاملے پر دوبارہ بات چیت شروع کرنے کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ لیکن امریکی قیادت نے اس تجویز کو فوری طور پر ناقابلِ قبول قرار دے کر رد کر دیا۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ امریکہ اب کسی بھی ایسے معاہدے پر رضامند ہونے کے لیے تیار نہیں جو اس کی مرضی اور منشا کے مطابق نہ ہو اور جس میں اسے فوری اور واضح کامیابی نظر نہ آئے۔ تاہم دوسری طرف یہ بات بھی اتنی ہی حقیقت پر مبنی ہے کہ دونوں فریقین نے تمام تر تلخیوں کے باوجود بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے ہیں۔
اس تمام سفارتی ڈرامے میں سب سے اہم اور بنیادی بات ایران کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے کو سمجھنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر جب بھی کوئی صدر یا وزیرِ خارجہ کسی دوسرے ملک سے بات چیت کرتا ہے تو عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہی تمام فیصلوں کا مختارِ کل ہے۔ لیکن ایرانی نظامِ حکومت میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ آئین کے تحت ملک کی تمام بنیادی، داخلی اور خارجی پالیسیوں کا حتمی فیصلہ صرف اور صرف رہبرِ اعلیٰ کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ چاہے کوئی بھی منتخب حکومت ہو یا اس کا کوئی بھی نمائندہ ہو، وہ ایک طے شدہ دائرہ کار کے اندر ہی قدم اٹھا سکتا ہے۔ فوج کی اعلیٰ قیادت کی تعینی، جنگ اور امن کا اعلان، اور ایٹمی معاملے جیسے حساس ترین موضوعات پر آخری دستخط ہمیشہ رہبرِ اعلیٰ کے ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیویارک میں بیٹھے ہوئے سفارت کار اور اعلیٰ عہدے دار کوئی بھی ایسا معاہدہ کرنے سے قاصر تھے جس پر تہران سے مکمل اور حتمی توثیق حاصل نہ ہو۔
دوسری طرف امریکہ کے سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی ایک الگ قسم کا سیاسی دباؤ اور حکمتِ عملی کارفرما نظر آتی ہے۔ امریکہ میں ان دنوں داخلی سیاسی ماحول اور متوقع انتخابات کی وجہ سے قیادت کے لیے انتہائی محتاط رہنا ضروری ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر اپنے سخت گیر ووٹرز کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں اور وہ ایک مکمل اور واضح فتح کے بغیر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ امریکی پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی معاہدے سے پہلے ایسے سخت اور ناقابلِ تردید نتائج حاصل کریں جن کو وہ اپنے عوام کے سامنے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔ اس لیے نیویارک میں دکھائی دینے والی سختی اور لچک نہ دکھانے کا رویہ اصل میں دونوں ممالک کے اندرونی سیاسی حالات اور ان کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا آئینہ دار ہے۔
جب ہم تمام حقائق اور واقعات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ نیویارک میں نہ تو کوئی فریق جھکا ہے اور نہ ہی کسی نے اپنے موقف سے انحراف کیا ہے۔ یہ محاذ آرائی اصل میں الفاظ اور اعصاب کی ایک ایسی جنگ ہے جس میں ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھایا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک اس وقت ایک ایسے نقطے پر کھڑے ہیں جہاں وہ بغیر کسی بڑے نقصان کے پیچھے بھی نہیں ہٹ سکتے اور نہ ہی فی الحال کسی بڑے تصادم کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں۔ سفارت کاری کا بنیادی اصول ہی یہی ہے کہ بظاہر سخت ترین موقف اپناتے ہوئے بھی بیک ڈور رابطے قائم رکھے جائیں تاکہ مناسب وقت آنے پر کسی درمیانی راستے کا انتخاب کیا جا سکے اور موجودہ حالات بھی اسی بات کا اشارہ دے رہے ہیں۔
٭٭٭








