حسب معمول 81سالہ بوڑھی اماں یعنی اقوام متحدہ کے اجلاس کی گفتن و سنیدن کے بعد خاتمہ ہوا۔ جس میں سب سے بڑا موضوع بحث فلسطین کے عوام کی نسل کشی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل رہا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس بوڑھی اماں کے بعض بچے باغی ہو چکے ہیں، جو ہمہ وقت انسانوں کی قتل و غارت گری کرتے نظر آتے ہیں، جن پر اقوام متحدہ کے اندر تقاریر کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ جس پر اماں بے بس اور بے اختیار نظر آ رہی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور ناتواں بچوں کو بڑے، باغی، ظالم اور جابر ناجائز بچوں سے کس طرح بچائے۔ مزید برآں اقوام متحدہ آج تک ایسا کوئی کردار پیش نہیں کر پائی ہے جو دنیا میں امن قائم کر سکے۔ اس کی ایک طویل عمر کے دوران اب تک لاکھوں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں، کئی ریاستوں کے وجود ختم ہوئے ہیں، کچھ ریاستوں کے ٹکڑے ہو چکے ہیں اور بعض نئی ریاستیں جنم لے چکی ہیں، جس کے دوران مشرق وسطیٰ حالت جنگ میں رہتا ہے۔ یہاں آج خون کی ندیاں بہتی نظر آ رہی ہیں جس پر بھی اقوام متحدہ بے بس نظر آ رہی ہے۔ جبکہ دنیا کی واحد نسل پرست اسرائیلی حکمران نیتن یاہو نے ان کے بائیکاٹ پر اپنی تقریر میں کہا کہ ہم فلسطین پر قبضہ جاری رکھیں گے، ہمیں اس دنیا کی کوئی پروا نہیں ہے، جو کوئی ہمارا بگاڑنا چاہتا ہے بگاڑ لے۔ یہ طرز عمل مکمل طور پر اقوام متحدہ کے خلاف اعلان بغاوت ہے مگر اقوام متحدہ اس پر بھی خاموش نظر آئی۔ حالانکہ اسرائیلی حکمران نیتن یاہو انٹرنیشنل کورٹ سے وار کرائمز کے مجرم قرار دئیے جا چکے ہیں، جن کا قانون کے مطابق اقوام متحدہ میں داخلہ ممنوع ہونا چاہیے تھا، مگر اماں جان اپنی حرام اولاد کو کبھی روک نہیں پاتی ہے۔
تاہم بوڑھی اماں اقوام متحدہ کا میلہ حسب روایت ختم ہوا جس میں بڑی بڑی زور دار تقاریر جاری رہیں۔ ہر ملک کے نمائندوں نے دل بھر کر اپنی اپنی بھڑاس نکالی، کسی نے فلسطین کا مقدمہ لڑا، کسی نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کا ذکر کیا اور کسی نے اقوام متحدہ کو دوبارہ ازسرنو فعال بنانے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ پاکستان اور ہندوستان نے کشمیر اور دہشت گردی کے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ لیکن تمام شور و غل کے باوجود نتائج صفر نکلے۔ تمام بحث و مباحثے کے باوجود کوئی مشترکہ قرارداد منظور نہیں ہوئی جو فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرتی، نہ ہی مشرق وسطیٰ کے سلسلے میں کوئی ایکشن ہوا جس جنگ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جس سے ہر ملک کی معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ نہ ہی کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد پر کوئی پیش رفت ہوئی کیونکہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی پرواہ کیے بغیر پورے کشمیر کو ہڑپ کر لیا ہے۔
بہرحال بوڑھی اماں اقوام متحدہ کا وجود عملی طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس کی لاش پڑی ہوئی ہے جسے دفنانا باقی ہے، جسے کسی بھی وقت کوئی باغی لڑکا قبر میں پھینک دے گا اور اسی کا انتظار ہو رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا جس کے بعد اس کی باغی اولاد ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے گی۔ قصہ مختصر اقوام عالم کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہو چکا ہے کہ آج مصنوعی ذہانت کے خطرات لاحق ہو چکے ہیں جس پر پوری دنیا خوفزدہ نظر آ رہی ہے کہ کہیں کوئی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری دنیا کو نیست و نابود نہ کر دے۔ اس کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اس کے خالق و مالک بھی پریشان ہیں کہ انہوں نے یہ کیا ایجاد کر دیا ہے کہ ایک مصنوعی دماغ بنا لیا ہے جس پر ان کا کنٹرول نہیں ہے اور جسے کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا نام مصنوعی ذہانت کی بجائے سپر آئی رکھا جائے، جس پر بھی اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی رہی ہے۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)









