واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر مزید فوجی حملے مؤخر کرنے اور مذاکرات کو موقع دینے کے بیان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ پیر کے روز اس اعلان کے سامنے ا?تے ہی امریکی اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس ڈاؤ جونز میں 631 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 میں بھی ایک فیصد سے زائد کی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم گر گئیں اور برینٹ کروڈ کی قیمت 10.92 فیصد کمی کے ساتھ 99.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 11 مارچ کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے نیچے کی سطح ہے۔ امریکی خام تیل بھی 10.28 فیصد سستا ہو کر 88.13 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی تحریر میں کہا کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے مذاکرات ہوں گے، تاہم خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے اور ایران نے اسے عملی طور پر بند کر رکھا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ نے اس خبر کا مثبت استقبال کیا، لیکن دن کے اختتام تک تیزی میں کچھ کمی دیکھی گئی کیونکہ اسرائیلی فوج نے تہران پر اپنے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا اور ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے ان دعووں کی تردید کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ یورپی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان رہا جہاں جرمنی کا انڈیکس 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سونے کی قیمتوں میں بھی 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی جو حالیہ مہینوں میں مسلسل اضافے کے بعد ایک بڑی گراوٹ ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ فی الحال سیاسی خبروں اور سرخیوں کے زیر اثر ہے اور جب تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں کوئی ٹھوس بہتری نہیں آتی، سرمایہ کار محتاط رہیں گے۔ اس دوران بانڈز کی خریداری میں اضافے کی وجہ سے ٹریڑری منافع میں بھی کمی دیکھی گئی ہے جو حالیہ ہفتوں میں جنگ کی شدت کے باعث مسلسل بڑھ رہا تھا۔

















