7 سال سے چھپا جیفری ایپسٹین کاخودکشی سے قبل نوٹ منظر عام پر، بے گناہی کا دعویٰ

0
37

نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے کو جیفری ایپسٹین کی وہ مبینہ تحریر منظر عام پر لانے کا حکم دیا ہے جو گزشتہ سات برسوں سے ایک محفوظ تجوری میں چھپی ہوئی تھی۔ یہ نوٹ انکشاف کرتا ہے کہ جنسی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنیوالے ارب پتی شخص نے اپنی موت سے قبل خود کو بے گناہ قرار دیا تھا۔ قانونی دستاویزات کے مطابق یہ نوٹ 2019 میں پہلی بار اس وقت ملا تھا جب ایپسٹین نے جیل میں خودکشی کی پہلی ناکام کوشش کی تھی۔ یہ تحریر اس کے ایک ساتھی قیدی نکولس ٹارٹاگلیون کو ایک تصویری ناول کے اندر سے ملی تھی، تاہم قانونی پیچیدگیوں اور رازداری کے قوانین کی وجہ سے اسے اب تک تحقیقاتی اداروں اور عوام سے اوجھل رکھا گیا تھا۔ پیلے رنگ کے قانونی کاغذ پر لکھی گئی اس تحریر میں ایپسٹین نے لکھا کہ تفتیشی اداروں نے مہینوں تک میری چھان بین کی لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس نے مزید لکھا کہ یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ انسان اپنی رخصتی کا وقت خود منتخب کرے۔ تحریر کے آخر میں تلخ لہجہ اپناتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دوں؟ یہ سب اب مزید کسی تفریح یا فائدے کے قابل نہیں رہا۔ اگرچہ قیدی کے وکلائ کا دعویٰ ہے کہ ماہرین نے اس تحریر کے ایپسٹین کے ہاتھ سے لکھے ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم وفاقی حکام نے تاحال اس کی اصلیت پر کوئی حتمی مہر نہیں لگائی۔ یہ نوٹ منظر عام پر آنے سے ایپسٹین کی موت سے متعلق جاری بحث میں ایک نیا موڑ آگیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ تحریر امریکی محکمہ انصاف کی 2023 کی رپورٹ میں بھی شامل نہیں تھی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here