واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک جامع امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت تہران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی اور اس کے منجمد کردہ اربوں ڈالر کے اثاثے بھی بحال کر دئیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت ان پالیسیوں سے مماثلت رکھتی ہے جن پر سابق صدر باراک اوباما کے دور میں عمل کیا گیا تھا اور جن پر ٹرمپ ماضی میں شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیریڈ کشنر اور اعلی ایرانی حکام کے درمیان 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ یہ فریم ورک آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر جنگ کے باقاعدہ خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر اس دستاویز پر دستخط ہو جاتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک وسیع تر معاہدے کے لیے 30 دن کا وقت ملے گا جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، تمام امریکی پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام پر نئی حدود کے تعین جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔ اس مجوزہ معاہدے کی اہم شقوں کے مطابق ایران کو 12 سے 15 سال تک یورینیم کی افزودگی روکنی ہوگی اور اگر تہران نے ان شرائط کی خلاف ورزی کی تو پابندیاں خود بخود دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ایرانی حکومت کو اعلی سطح پر افزودہ شدہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر منتقل کرنا ہوگا تاہم اس کی منزل کے بارے میں ابھی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ اس معاہدے کو اوباما دور کے معاہدے سے مختلف قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے خدوخال اوباما دور کے 2015 کے معاہدے سے ملتے جلتے ہیں جہاں افزودگی کی حد 3.67 فیصد مقرر کی گئی تھی۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زیادہ کی نمایاں کمی دیکھی گئی اور برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان رہا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ پیغام میں ایرانی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ امن کی راہ اختیار کریں تاکہ اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ ہو سکے اور آبنائے ہرمز کو تمام ممالک بشمول ایران کے لیے کھولا جا سکے۔ انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر ایران ان شرائط پر راضی نہیں ہوتا تو پھر دوبارہ بمباری کا آغاز ہو سکتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگی۔ اس مفاہمت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی کوئی جوہری تجربہ کرے گا۔ سفارتی سطح پر ایران کو زیر زمین جوہری تنصیبات چلانے سے روکنے کے بارے میں بھی بات چیت جاری ہے۔ اس منصوبے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی پابندی نظر نہیں آتی البتہ تہران کو اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی تنصیبات کے اچانک معائنے کی اجازت دینا ہوگی۔ دوسری جانب اسرائیل اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ناکام ہوا تو وہ ایرانی توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کے لیے تیار ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد فنڈز کی واپسی کا عمل بتدریج ہوگا تاکہ امن کے اس عمل کو استحکام مل سکے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے اگرچہ تہران کی جانب سے کچھ اشتعال انگیزی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا مقصد جہاز رانی کا تحفظ ہے اور وہ آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی مداخلت سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔ ایرانی مذاکرات کاروں نے بھی اس سلسلے میں اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے تاہم خطے میں کشیدگی کے سائے اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی افواج پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں لیکن سفارتی کوششوں کا مرکز فی الحال کشیدگی کا خاتمہ ہے۔












