نیویارک (پاکستان نیوز)ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب ایک ایسے نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں روایتی فوجی اہداف کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے مراکز بھی خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایرانی فوجی حکام نے امریکہ کی جانب سے دی جانے والی معاشی اور عسکری دھمکیوں کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں زیر تعمیر دنیا کے سب سے بڑے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر کو اڑانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ یہ منصوبہ جو کہ اسٹار گیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے محض ایک عمارت نہیں بلکہ عالمی ٹیکنالوجی کی تاریخ کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے جس پر تیس ارب ڈالر کی خطیر رقم صرف کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے میں دنیا کی بڑی ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اس کا مقصد مستقبل کی دنیا کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلانا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ اگر امریکہ نے ان کے توانائی کے ڈھانچے یا بجلی کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو وہ اس عالمی مرکز کو نشانہ بنائیں گے جس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کی صنعت زمیں بوس ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا سینٹر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے چلانے کے لیے ایک مکمل ایٹمی بجلی گھر کی ضرورت ہے اور اس پر حملہ عالمی معیشت کے غبارے سے ہوا نکالنے کے مترادف ہوگا۔ ایران کی جانب سے اس مخصوص ہدف کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس کی خفیہ ایجنسیوں نے ان مقامات کی بھی نشاندہی کر لی ہے جو عالمی نقشے پر اس قدر واضح نہیں تھے یا جنہیں محفوظ ترین تصور کیا جاتا تھا۔ اس سے قبل ایران نے اسرائیل کے اہم ترین فضائی اڈے پر حملہ کر کے اپنی جدید میزائل ٹیکنالوجی اور نشانے کی درستگی کا لوہا منوایا ہے جہاں مبینہ طور پر چالیس کے قریب جدید ترین لڑاکا طیارے تباہ کیے گئے جن کی مالیت چار ارب ڈالر کے لگ بھگ تھی۔ اب ٹیکنالوجی کے اس عظیم مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی نے عالمی منڈیوں اور سیاسی ایوانوں میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے کیونکہ اس مرکز پر کسی بھی قسم کا حملہ عالمی مالیاتی نظام اور انٹرنیٹ پر مبنی جدید صنعتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایران کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب صرف روایتی سرحدوں تک محدود رہنے کے بجائے دشمن کو وہاں چوٹ پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں اس کا درد پوری دنیا محسوس کرے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے کیونکہ ان کی زمین پر موجود اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اب دو بڑی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم کی زد میں آ چکی ہے۔ عالمی تجزیہ نگار اس پیش رفت کو سائبر اور طبعی جنگ کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں جہاں صرف فوجیں نہیں بلکہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے مراکز بھی میدان جنگ بن چکے ہیں۔















