نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ نے ان بڑے شہروں کے ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی مسافروں اور سامان کی جانچ پڑتال روکنے کیلئے ایک متنازع منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جو وفدری امیگریشن قوانین کے نفاذ میں تعاون کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر مارک وین ملن کے مطابق ان شہروں میں، جنہیں سینکچری سٹیز کہا جاتا ہے، مقامی انتظامیہ وفاقی حکام کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی جس کی وجہ سے یہ انتہائی اقدام زیر غور ہے۔ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد ہوا تو نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، بوسٹن اور سان فرانسسکو جیسے بڑے شہروں کے ہوائی اڈوں پر عالمی پروازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ تشویشناک پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اگلے ماہ سے امریکہ میں فٹ بال ورلڈ کپ کا آغاز ہو رہا ہے اور لاکھوں غیر ملکی سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ امریکی ٹریول ایسوسی ایشن اور فضائی کمپنیوں کی تنظیموں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ کسٹمز اور امیگریشن عملے کو ہٹانے سے نہ صرف سفری صنعت تباہ ہو جائے گی بلکہ معیشت اور کارگو کی ترسیل کو بھی اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچے گا۔ صرف نیویارک کے ہوائی اڈوں پر گزشتہ سال 50 ملین سے زائد غیر ملکی مسافر آئے تھے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وفاقی امیگریشن اداروں کی من مانیوں کو روکنے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ غفلت کی وجہ سے امریکی شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ فی الحال اس منصوبے پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا لیکن اس نے ملک میں شدید سیاسی اور معاشی بحث چھیڑ دی ہے۔












