نیویارک (پاکستان نیوز)اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادی و سماجی امور کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ پاکستانی نڑاد تارکین وطن کے لیے دنیا کی سب سے بڑی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں 2024 میں پاکستانی پس منظر رکھنے والے افراد کی تعداد 31 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ شمالی امریکہ میں کینیڈا 10 لاکھ 20 ہزار پاکستانیوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ان دونوں ممالک میں مقیم پاکستانی دنیا بھر میں پھیلے 1 کروڑ 85 لاکھ پاکستانی تارکین وطن کا ایک بڑا حصہ ہیں جو شمالی امریکہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پچھلی تین دہائیوں کے دوران اس رجحان میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 1990 میں امریکہ میں صرف 4 لاکھ 44 ہزار 698 اور کینیڈا میں 1 لاکھ 62 Even ہزار 668 پاکستانی مقیم تھے، لیکن 2024 تک یہ تعداد بالترتیب سات اور چھ گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب ہر چار میں سے ایک پاکستانی تارک وطن شمالی امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ اس کے باوجود متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت جیسے ممالک پر مشتمل خطہ یعنی مغربی ایشیا اب بھی سب سے بڑا مرکز ہے جہاں عالمی سطح پر کل پاکستانی تارکین وطن کی نصف آبادی مقیم ہے۔ بین الاقوامی تعریف کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ تارکین وطن بھیجنے والا ملک ہے جو عالمی تارکین وطن کا 6 فیصد ہے۔ دوسری جانب 1947 کی تقسیم کے تاریخی اثرات اب کم ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے بھارت میں مقیم پاکستان نڑاد باشندوں کی تعداد 1990 میں 28 لاکھ 20 ہزار سے کم ہو کر 2024 میں 16 لاکھ رہ گئی ہے۔ شمالی امریکہ سے باہر برطانیہ 10 لاکھ 40 ہزار اور آسٹریلیا 8 لاکھ 76 ہزار 74 تارکین وطن کے ساتھ اہم ترین مقامات میں شامل ہیں۔












