ٹڈ بلانچ کو بڑا جھٹکا، ایپسٹین فائلیں چھپانے کی نئی کوشش ناکام

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز)وفاقی عدالت نے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹڈ بلانچ کو ایک بڑا قانونی جھٹکا دیتے ہوئے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلوں سے متعلق دائر مقدمہ بند کرنے کی حکومتی استدعا مسترد کر دی ہے۔ وفاقی جج ایمٹ سلیوان نے بلانچ کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد اس مقدمے کو زندہ رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جو صحافی کیٹی فینگ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ صحافی کا موقف ہے کہ قائم مقام اٹارنی جنرل ان دستاویزات کو چھپا رہے ہیں جنہیں قانون کے مطابق عام کرنا لازمی ہے۔ جج سلیوان نے گزشتہ ماہ یہ فیصلہ دیا تھا کہ بلانچ نے ایپسٹین فائلز ٹرانسپرینسی ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 2025 میں دستخط کیے تھے۔ اس قانون کے تحت محکمہ انصاف کے لیے جنسی اسمگلنگ کے اس مجرم سے متعلق فائلیں جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ جج نے بلانچ کو ان برقی خطوط کے نام واضح کرنے کا حکم دیا ہے جنہیں سیاہ روشنائی سے چھپایا گیا تھا، جن میں انتہائی قابل اعتراض اور حساس جملے شامل ہیں۔ بلانچ کی قانونی ٹیم نے ان ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے دلیل دی کہ یہ اقدامات قانونی دائرہ کار میں تھے کیونکہ متاثرین کے پیغامات سیاق و سباق کے بغیر غلط تاثر دے سکتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف نے ممکنہ مجرموں اور اپنے ساتھیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدالت نے بلانچ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ان انٹرویوز کے نوٹس بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے جن میں ایک خاتون نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا۔ اگرچہ ٹرمپ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، لیکن جج سلیوان کا کہنا ہے کہ بلانچ کی ٹیم نے قانون کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا ہے کیونکہ انہوں نے مقدمے کے اصل حقائق کا مقابلہ کرنے کے بجائے صرف عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا تھا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here