نیویارک (پاکستان نیوز) نئے سروے میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے اور واشنگٹن کی اندھی حمایت پر تشویش کا اظہار نیویارک سے موصول ہونے والی ایک نئی رائے عامہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں مقیم یہودی برادری کے اندر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مقابلے میں نیویارک کے مئیر زہران ممدانی کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور نورک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے زیر اہتمام منگل کے روز جاری ہونے والے ایک جامع سروے کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین سروے کے مطابق، 44 فیصد امریکی یہودیوں نے نیویارک کے مئیر زہران ممدانی کی کارکردگی اور موقف کی تائید کی ہے، جبکہ اس کے برعکس صرف 32 فیصد افراد نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمایت میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ یہ سروے مجموعی طور پر 1,022 یہودی جواب دہندگان کے انٹرویوز پر مبنی ہے، جس میں غلطی کا امکانی تناسب 5 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس تحقیقاتی جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی یہودیوں کی ایک بڑی تعداد اب اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر نظرثانی کی خواہاں ہے۔ سروے میں شامل 38 فیصد یہودیوں کا ماننا ہے کہ امریکی حکومت اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت اور مدد کر رہی ہے جو کہ غیر منصفانہ ہے۔ اس کے علاوہ، ایک انتہائی اہم اور حساس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے 30 فیصد یہودی جواب دہندگان نے واضح طور پر کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اور اقدامات درحقیقت نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ غزہ کی صورتحال اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی وجہ سے امریکی یہودی برادری میں اسرائیل کی موجودہ قیادت اور پالیسیوں کے خلاف سخت مایوسی اور بے چینی پھیل رہی ہے۔













